اسماعیلیہ کمیونٹی کے روحانی پیشوا پرنس رحیم آغا خان پنجم نے مصر کے شہر قاہرہ میں اسلامی دنیا کی تاریخی درسگاہ جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب سے ملاقات کی اور جامعہ ازہر کے ساتھ علمی تعاون کو فروغ دینے کا اعلان کیا۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے الازہر الشریف اور اسماعیلی امامت کے تاریخی تعلقات پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ علمی و فکری میدان میں مشترکہ کاوشوں کو مزید وسعت دینا وقت کی ضرورت ہے۔ شیخ الجامعہ نے اس موقع پر کہا کہ الازہر کا مقصد امت کے مختلف طبقات اور اجزاء کے درمیان اخوت اور یکجہتی کو فروغ دینا ہے اور امید ظاہر کی کہ مشترکہ تعاون سے یہ رشتے مزید مضبوط ہوں گے۔
غزہ منصوبے پر وزیراعظم کی حمایت، عوام کا شدید ردعمل، غداری قرار دیدیا
آغا خان پنجم شاہ رحیم نے جامعہ الازہر کو دنیائے اسلام میں اعتدال اور میانہ روی کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عالمی امن اور مکالمے کے فروغ کے لیے جامعہ کی کوششوں کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔
ملاقات کے اختتام پر شیخ الجامعہ احمد الطیب نے کہا کہ الازہر اور اسماعیلی امامت مل کر اسلام کے آفاقی پیغام خصوصاً اعتدال اور میانہ روی کو دنیا بھر میں عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ ملاقات اسلامی دنیا میں علمی تعاون اور اتحاد کے فروغ کے لیے ایک نئے باب کے آغاز کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس سے مستقبل میں مشترکہ کاوشوں کو نئی طاقت ملنے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ قاہرہ کی تاریخی درسگاہ جامعہ الازہر جسے پوری عرب دنیا میں احترام سے الازہر الشریف کہہ کر پکارا جاتا ہے، کی بنیاد مصر کی فاطمی خلافت نے رکھی تھی، جس کی سربراہی آغاخان شاہ رحیم الحسینی کے آباءو اجداد کے ہاتھ میں تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








