فلسطینی مقتدرہ نے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

محمود عباس وائٹ ہاؤس میں، فائل فوٹو

فلسطینی مقتدرہ کے صدر محمود عباس نے غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق فلسطینی مقتدرہ نے تصدیق کی کہ وہ امریکہ، علاقائی شراکت داروں اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر ایک جامع معاہدے کے ذریعے غزہ تنازع کو ختم کرنے کی کوشش میں شامل ہیں۔

بیان میں زور دیا گیا کہ ایسا معاہدہ غزہ، مغربی کنارے اور دیگر فلسطینی علاقوں پر قبضے کے خاتمے کا راستہ ہموار کرے گا اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ امن کو یقینی بنائے گا۔

غزہ منصوبے پر وزیراعظم کی حمایت، عوام کا شدید ردعمل، غداری قرار دیدیا

ریاست فلسطین کی مقتدرہ نے مزید اعلان کیا کہ ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست اسرائیل کے ساتھ امن و سلامتی کے تعلقات قائم رکھے گی۔ اس نے نیویارک میں ہونے والے بین الاقوامی اجلاس میں اپنے وعدوں کی بھی تصدیق کی۔

معاہدے کے تحت فلسطینی اصلاحاتی پروگرام مکمل کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے، جن میں جنگ کے خاتمے کے ایک سال کے اندر صدارتی اور پارلیمانی انتخابات شامل ہیں۔

تمام امیدواروں کو لازمی ہوگا کہ وہ بین الاقوامی وعدوں اور فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کی پالیسیوں کی پابندی کریں، تاکہ “ایک نظام، ایک قانون اور ایک فلسطینی سیکورٹی فورس” کے اصول کی پاسداری ہو۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ فلسطین ایک جدید، جمہوری اور غیر فوجی ریاست قائم کرنا چاہتا ہے جو طاقت کی پرامن منتقلی کے لیے پرعزم ہو۔ معاہدے کے دو سال کے اندر یونسکو کے معیار کے مطابق اصلاحاتی پروگرام بھی نافذ کیا جائے گا۔

Related Posts