پاکستان کی معیشت نے لی نئی اڑان! زر مبادلہ کے ذخائر پہنچے 19.80 ارب ڈالر تک

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

اسٹیٹ بینک پاکستان ( ایس بی پی) کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 26 ستمبر 2025 تک بڑھ کر 19.80 ارب امریکی ڈالر کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ ان میں سے 14.40 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے پاس جبکہ 5.40 ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس موجود ہیں۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ستمبر 2025 کے آغاز میں ذخائر 19.68 ارب ڈالر تھے جو مہینے کے اختتام تک بڑھ کر19.80 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ اگست 2025 میں یہ ذخائر 19.08 ارب ڈالر تھے جبکہ جولائی میں 18.97 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے تھے۔

مالی سال 2024-25 میں زرمبادلہ کے ذخائر میں واضح بہتری دیکھی گئی ہے۔ جون 2025 کے اختتام پر ذخائر 19.27 ارب ڈالر تھے جوکہ ایک سال پہلے 2023-24 میں صرف 13.99 ارب ڈالر تھے۔ اس سے قبل مالی سال 2022-23 میں یہ سطح کم ہو کر صرف 9.16 ارب ڈالر رہ گئی تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2020-21 میں ذخائر 24.40 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر تھے مگر اس کے بعد دو سالوں میں ان میں نمایاں کمی واقع ہوئی تاہم 2023 کے وسط سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج بحالی کا عمل جاری ہے جو کہ معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے سے نہ صرف بیرونی ادائیگیوں میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ روپے کی قدر کو مستحکم رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ موجودہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک کی مالی حالت میں بہتری آ رہی ہے۔

قطار، سفارش اور نہ انتظار! مریم نواز کا فلڈ ریلیف کارڈ سب کو حیران کرگیا

واضح رہے کہ ان ذخائر میں مرکزی بینک کے پاس موجود رقوم کے ساتھ ساتھ کمرشل بینکوں کے ذخائر بھی شامل ہوتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی رپورٹ ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

Related Posts