انڈونیشیا کے شہر سدوآرجو میں ایک دینی مدرسے کی عمارت گرنے کے تین دن بعد امدادی ٹیموں نے جمعرات کو بھاری مشینری استعمال کرنے کا مشکل فیصلہ کیا کیونکہ اب ملبے تلے سے زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ تقریباً 60 نوعمر طلبہ ابھی تک لاپتہ ہیں۔ حکام نے بتایا کہ یہ فیصلہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔
محمد صلاح الدین جن کے 17 سالہ بیٹے احمد صوفی کی ابھی تک کوئی خبر نہیں کا کہنا ہے کہ بھاری مشینوں سے بڑے کنکریٹ کے ٹکڑوں کو ہٹانے سے شاید ان کے بیٹے کو زندہ بچانے کا موقع مل سکے۔ وہ اپنی بیوی اور دیگر والدین کے ساتھ مدرسے کے ایک محفوظ حصے میں انتظار کررہے ہیں جہاں مشینوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

بدھ کو امدادی کارکنوں نے ہاتھ کے اوزاروں سے ملبے میں سرنگیں کھود کر پانچ طلبہ کو نکالا تھا۔ وزیر پراتیکونو نے بتایا کہ اب بھاری مشینوں کا استعمال انتہائی احتیاط سے کیا جائے گا کیونکہ زندگی کے کوئی آثار باقی نہیں ہیں۔
یہ واقعہ پیر کے دن سدوآرجو میں واقع ایک سو سال پرانے الخوزینی دینی مدرسے کی نماز گاہ میں پیش آیا جہاں سینکڑوں افراد موجود تھے۔ حکام کے مطابق عمارت دو منزلہ تھی لیکن اس پر غیر قانونی طور پر دو مزید منزلیں بنائی جا رہی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پرانی عمارت کی بنیاد نئی منزلوں کا بوجھ برداشت نہ کرسکی اور کنکریٹ ڈالنے کے دوران گر گئی۔

اب تک پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 105 کے قریب زخمی ہوئے جن میں سے 20 سے زائد اب بھی ہسپتال میں ہیں جن میں سے کئی کے سر پر چوٹیں اور ہڈیاں ٹوٹنے کی اطلاعات ہیں۔
طلبہ زیادہ تر 12 سے 19 سال کی عمر کے لڑکے تھے جو ساتویں سے بارہویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ لڑکیاں عمارت کے دوسرے حصے میں نماز پڑھ رہی تھیں اور وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔
صلاح الدین نے بتایا کہ وہ پیر کی رات سے جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ منگل کو جب وہ والدین کے نمائندے کے طور پر ملبے کے قریب تھے انہوں نے پھنسے ہوئے افراد کی آوازیں سنی تھیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو آخری بار دو ہفتے پہلے دیکھا تھا جب وہ گھر آیا تھا کیونکہ وہ اپنی ماں کے ہاتھ کا کھانا کھانا چاہتا تھا۔ اب وہ صرف دعاؤں کے سہارے ہیں کہ ان کا بیٹا مل جائے۔
جمعرات کو تقریباً220 امدادی کارکن جائے وقوعہ پر موجود تھے جہاں ایمبولینسیں تیار تھیں کہ اگر کوئی زندہ ملے تو اسے فوراً ہسپتال لے جایا جائے لیکن حکام نے بڑی تعداد میں لاشوں کے تھیلے بھی منگوائے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ زندہ افراد ملنے کے امکانات کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے سربراہ سوہاریانتو نے کہا کہ اب زندہ بچ جانے والوں کی امید ختم ہوتی جا رہی ہے لیکن پھر بھی احتیاط سے کام کیا جائے گا۔ لاپتہ افراد کی تعداد کے بارے میں درست معلومات نہ ہونے کی وجہ سے حکام کو اندازہ لگانا پڑ رہا ہے کہ کتنے طلبہ ملبے تلے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شاید یہ 59 طلبہ ملبے تلے نہ ہوں اور کہیں اور ہوں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








