برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک یہودی عبادت گاہ کے باہر چاقو سے حملہ اور گاڑی چڑھانے کے نتیجے میں دو افراد جان سے گئے اور تین زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہاں یومِ کِپور کے موقع پر عبادت ہو رہی تھی۔ یومِ کِپور یہودیوں کے لیے سب سے مقدس دن ہوتا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ایک شخص نے پہلے چاقو سے حملہ کیا اور پھر گاڑی لوگوں پر چڑھا دی۔ ایک شخص جو غالباً حملہ آور تھا پولیس کی فائرنگ سے موقع پر ہی مارا گیا۔ زخمیوں میں ایک سیکیورٹی گارڈ بھی شامل ہے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

واقعہ کے فوراً بعد پولیس اور ایمبولینس سروس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور آپریشن پلیٹو نامی ہنگامی منصوبہ نافذ کیا جوعام طور پر دہشتگردی جیسے سنگین واقعات کے دوران استعمال کیا جاتا ہے۔

مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہام کے مطابق صورتحال اب قابو میں ہے لیکن تحقیقات جاری ہیں اور عوام کو علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ حملہ آورغالباً ہلاک ہوچکا ہے۔
آج کا دن یہودی مذہب میں سب سے مقدس کیوں؟ جانیں یومِ کِپور کی دلچسپ تفصیل
اس حملے پر برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ خاص طور پر اس لیے تکلیف دہ ہے کیونکہ یہ یومِ کِپور جیسے مقدس دن پر پیش آیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا اور ہنگامی خدمات انجام دینے والے عملے کا شکریہ ادا کیا۔
This morning’s attack is absolutely shocking.
I’m on my way back to London to chair an emergency meeting, and additional police assets are being deployed to synagogues across the country.
We will do everything we can to keep our Jewish community safe. pic.twitter.com/bNUfGbWwfq
— Keir Starmer (@Keir_Starmer) October 2, 2025
دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈنوچ نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی اور اسے مکروہ اور شرمناک قرار دیا جبکہ پولیس واقعے کے محرکات کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ حملہ انفرادی نوعیت کا تھا یا کسی بڑے منصوبے کا حصہ تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








