پاکستان میں گاڑیوں کے حوالے سے نئے اور جامع قوانین نافذ کر دیے گئے ہیں جن کا مقصد سڑکوں پر محفوظ، معیاری اور ماحول دوست گاڑیاں لانا ہے۔اب درآمد کی جانے والی یا مقامی طور پر بننے والی گاڑیوں کو 62 مختلف حفاظتی اور فنی شرائط پر پورا اترنا ہوگا جو اس سے پہلے صرف 17 تھیں۔
یہ قدم آئی ایم ایف کے مطالبات کو پورا کرنے اور عالمی معیار تک پہنچنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ یہ ضوابط وزارتِ صنعت و پیداوار کے ادارے انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) نے جاری کیے ہیں۔
نئے قوانین کے تحت!
درآمد شدہ گاڑیوں پر یہ ضوابط یکم اکتوبر 2025 سے لاگو ہو چکے ہیں۔
مقامی طور پر تیار کردہ گاڑیوں پر یہ قوانین یکم جولائی 2026 سے نافذ ہوں گے۔
اب کن اداروں کا معائنہ ضروری ہوگا؟
درآمد کنندگان کو گاڑیوں کا معائنہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ اداروں سے کروانا ہوگا جیسے کہ؛
JEVIC (جاپان)
JAAI (جاپان)
KTL (جنوبی کوریا)
CAERI (چین)
یہ ادارے گاڑیوں کی حفاظت، معیار اور ماحول سے مطابقت کی جانچ کریں گے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے لیے سخت جانچ!
الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کے لیے الگ سے سخت جانچ ہوگی!
بیٹری کی طاقت اور زندگی
چارجنگ سسٹم کی مطابقت
حادثے میں محفوظ رہنے کی صلاحیت
بیٹری کی ری سائیکلنگ کی قابلیت
آخر وفاقی حکومت کیا چاہتی ہے؟ غربت کی چکی میں پسی عوام پر پیٹرول حملہ
نگرانی کون کرے گا؟
انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ خود ان تمام ضوابط پر عملدرآمد کی نگرانی کرے گا۔ گاڑیوں کی جانچ میں یہ چیزیں دیکھی جائیں گی جیسا کہ
سیٹیں کتنی ہیں؟
وزن اٹھانے کی کتنی صلاحیت ہے؟
ایکسل اور دیگر تکنیکی تفصیلات کیا ہیں؟
مجموعی معیار اور سڑک پر کارکردگی کیسی ہے؟
اگر کوئی گاڑی بیرونِ ملک سے سرٹیفکیٹ لے کر بھی آئے لیکن پاکستان کے معیار پر پوری نہ اترے تو اسے داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








