آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والی پاکستانی خاتون کرکٹر نتالیہ پرویز کے بارے میں تبصرہ کرنے پر سابق کپتان اور کمنٹیٹر ثنا میر بھارتی میڈیا کے شدید ردعمل کی زد میں آ گئی ہیں۔
سری لنکا کے شہر کولمبو میں جاری ویمنز ورلڈ کپ کے دوران پاکستان اور بنگلادیش کے میچ میں ثنا میر نے کمنٹری کے دوران نتالیہ پرویز کا تعارف آزاد جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی کھلاڑی کے طور پر کرایا جس کے بعد بھارتی میڈیا نے اس بیان کو سیاسی رنگ دے کر ایک پروپیگنڈا مہم شروع کر دی۔
بھارتی چینلز اور اینکرز نے دعویٰ کیا کہ ثنا میر نے کھیل کو سیاست زدہ کرنے کی کوشش کی ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
It's unfortunate how things are being blown out of proportion and people in sports are being subjected to unnecessary pressure. It is sad that this requires an explanation at public level.
My comment about a Pakistan player's hometown was only meant to highlight the challenges… pic.twitter.com/G722fLj17C
— Sana Mir ثناء میر (@mir_sana05) October 2, 2025
محض آزاد کشمیر کے ذکر کو بھارتی میڈیا نے ایک دھماکہ خیز معاملہ بنا کر پیش کیا اور کئی نشریاتی اداروں نے اس کو قومی سطح پر تنازع بنا دیا۔
نتالیہ پرویز آزاد کشمیر کے ضلع بھمبر کی وادی بندالہ سے تعلق رکھتی ہیں اور قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے دنیا کے مختلف ملکوں میں پاکستان کا فخر بن چکی ہیں۔
ثنا میر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد محض کھلاڑی کے سفر اور اس کی جدوجہد کو اجاگر کرنا تھا، تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ ایک دور دراز علاقے سے تعلق رکھنے والی لڑکی نے کن مشکلات کے باوجود عالمی سطح تک رسائی حاصل کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمنٹری کے دوران کھلاڑیوں کے آبائی علاقوں کا ذکر معمول کی بات ہے اور اسے سیاسی رنگ دینا افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق کھیل اور کھلاڑیوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالنا کسی بھی طرح مناسب نہیں۔
فائلز اپ لوڈ ہورہی ہیں نہ آڈیو ویڈیو کال! ملک میں واٹس ایپ سست چلنے کی وجہ جانتے ہیں؟
اس تنازع کے بعد ایک کرکٹ ویب سائٹ، جس پر نتالیہ پرویز کے آبائی علاقے کو آزاد کشمیر کے طور پر درج کیا گیا تھا، نے دباؤ کے باعث اسے فوری طور پر ہٹا دیا۔
ثنا میر نے اس ویب سائٹ کے اسکرین شاٹ بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیے، جس میں واضح طور پر آزاد کشمیر کا ذکر موجود تھا۔
اس اچانک تبدیلی کو کھیل کو سیاست میں گھسیٹنے کی ایک اور مثال قرار دیا جا رہا ہے جس پر کھیلوں کے حلقوں میں بھی شدید تنقید سامنے آئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








