مسیحیوں کیلئے نیا سنگ میل! برطانیہ میں آرچ بشپ کیلئے پہلی بار 3 خواتین امیدوار، فیورٹ کون؟

تازہ ترین

تازہ ترین

UK set to name new Archbishop, with women contenders in historic first
ONLINE

برطانیہ میں چرچ آف انگلینڈ کے لیے نئے آرچ بشپ آف کینٹربری کا تقرر آج متوقع ہے اور یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ صدیوں پرانی یہ مذہبی روایت پہلی بار کسی خاتون کے ذریعے آگے بڑھ سکتی ہے۔

چرچ آف انگلینڈ دنیا بھر میں موجود 8 کروڑ 50 لاکھ اینگلیکن مسیحیوں کااولین چرچ ہے اور اس کی قیادت کے لیے خاتون کی نامزدگی کو تاریخ کا اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

سابق سربراہ جسٹن ویلبی نے گزشتہ برس بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز کی پردہ پوشی کے اسکینڈل کے باعث استعفیٰ دیا تھا۔

ان کے دور میں متعارف کرائی گئی اصلاحات کے تحت ایک دہائی قبل خواتین کو بشپ کے طور پر مقرر کرنے کی اجازت دی گئی جس کے نتیجے میں اب خاتون امیدوار کے آرچ بشپ بننے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

کینٹربری کے ڈین ڈیوڈ مونٹیث نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اگر نئی آرچ بشپ کوئی خاتون ہوئیں تو یہ 597 عیسوی سے اب تک کی تاریخ میں پہلی بار ہوگا۔ یہ ایک تاریخی لمحہ ہوگا۔ ڈین مونٹیث ہی وہ شخصیت ہوں گے جو باقاعدہ مذہبی تقریب میں نئے آرچ بشپ کو ان کی کرسی پر بٹھائیں گے۔

میڈیا رپورٹس اور تجزیہ کاروں کے مطابق تین خواتین امیدوار نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ ان میں بشپ ریچل ٹریوک، جو چرچ آف انگلینڈ کی پہلی خاتون ڈائیوسیزن بشپ ہیں، ایرانی نژاد بشپ گُلی فرانسس دہقانی، جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اپنے والدین کے ساتھ پناہ گزین کی حیثیت سے برطانیہ آئی تھیں اور بشپ سارہ مولالی جو لندن ڈائیوسیز کی سربراہ ہیں۔ ان کے علاوہ بشپ مارٹن اسنو اور بشپ پیٹ وِلکاکس کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

برطانیہ میں جنگ عظیم کے شہداء کے یوم یادگار پر پاکستانی خاتون پادری کی قیادت میں مارچ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کوئی خاتون آرچ بشپ مقرر ہو جاتی ہیں تو یہ فیصلہ دنیا بھر کے مسیحیوں کے لیے ایک سنگ میل ہوگا لیکن ساتھ ہی چرچ کے اندر خواتین کے کردار اور ہم جنس پرست جوڑوں کے مسئلے پر جاری اختلافات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ خاص طور پر افریقی ممالک میں اینگلیکن چرچ کے قدامت پسند حلقے سخت مخالفت کرتے رہے ہیں جبکہ مغرب میں زیادہ لبرل رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔

چرچ آف انگلینڈ کی حیثیت ایک سرکاری چرچ کی ہے، اسی لیے اس تقرر کا اعلان وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے دفتر سے شاہ چارلس کی باقاعدہ منظوری کے ساتھ کیا جائے گا۔

بادشاہ بطور سپرئم گورنر آف دی چرچ آف انگلینڈ اس عمل میں تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ عہدہ 16ویں صدی میں اس وقت قائم کیا گیا تھا جب بادشاہ ہنری ہشتم نے کیتھولک چرچ سے علیحدگی اختیار کی تھی۔

واضح رہے کہ یہ تقرری تقریباً ایک سال کے طویل اور پیچیدہ عمل کے بعد کی جا رہی ہے جس میں سابق خفیہ ایجنٹ کی نگرانی میں اعلیٰ بشپ اور دنیا بھر سے نمائندے شامل رہے۔

اس انتخابی کمیشن میں کل 17 ووٹنگ ممبران شامل تھے جن میں اینگلیکن کمیونین کے پانچ نمائندے، کینٹربری کے تین اراکین اور چرچ آف انگلینڈ کے چھ نمائندے شامل تھے۔

Related Posts