اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر مذہبی جماعتوں کے اعلان کے مطابق آج جمعہ کے روز ملک بھر میں اسرائیلی جارحیت اور صمود فلوٹیلا پر حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔
مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ روز امریکی صدر کے 20 نکاتی امن منصوبے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینی عوام کے خلاف کسی بھی جابرانہ اقدام کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی عوام جمعہ کے روز اپنے ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں احتجاج کر کے فلسطین سے یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کی مذمت کریں گے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری کے مطابق ملک بھر کے علما جمعہ کے خطبات میں فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کریں گے۔ مساجد میں قراردادیں منظور کی جائیں گی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازع امن منصوبے کو رد کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ یہ مظاہرے اس وقت ہو رہے ہیں جب عالمی صمود فلوٹیلا کو اسرائیلی فورسز نے روکا اور غزہ کے عوام کے لیے امداد لے جانے والے جہاز پر حملہ کیا، جس پر پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے شدید ردِعمل دیا تھا۔
اس واقعے کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ آج کے مظاہرے پُرامن ہوں گے، مگر دنیا کو یہ واضح پیغام دیں گے کہ پاکستانی عوام فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کرنا پوری قوم کا مذہبی و اخلاقی فریضہ ہے، اور اسرائیلی اقدامات پر خاموش رہنا مجرمانہ شراکت داری کے مترادف ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








