مشتاق احمد بھی شامل! صمود فلوٹیلا کے سیکڑوں گرفتار قیدیوں کا انجام کیا ہوگا؟ اسرائیل نے اہم اعلان کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

Israeli Foreign Ministry issues statement on members of Flotilla
ONLINE

اسرائیلی وزارت خارجہ نے جمعرات کو صمود فلوٹیلا کے شرکاء کی گرفتاری سے متعلق پہلا باضابطہ بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تمام گرفتار افراد محفوظ اور صحت مند ہیں اور انہیں اسرائیل پہنچنے کے بعد قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ملک بدر کردیا جائے گا۔

وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے فلوٹیلا کی متعدد کشتیوں کو اس وقت روک لیا جب وہ غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

بیان میں کہا گیا کہ شرکاء کو پرامن طریقے سے اسرائیل لایا گیا ہے اور سب کو اسرائیلی قوانین کے مطابق پراسس کرنے کے بعد واپس بھیج دیا جائے گا۔

شیر کی ایک دن کی زندگی! اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتار سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو قوم کا خراجِ تحسین

اسرائیلی حکام نے انکشاف کیا کہ بین الاقوامی فلوٹیلا کے 44 جہازوں میں سے 21 کو روک لیا گیا ہے۔

اس فلوٹیلا میں درجنوں امدادی جہاز شامل تھے جن پر فلسطینیوں سے یکجہتی کے لیے کارکن اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سامان موجود تھا۔

اس اقدام نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور کئی حکومتوں کی جانب سے شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔

ناقدین نے کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیلی کارروائی کو “بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور دنیا بھر میں احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی۔

فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد غزہ کے محصور عوام کے لیے طبی امداد، خوراک اور اخلاقی یکجہتی فراہم کرنا تھا، جہاں 20 لاکھ سے زائد افراد گزشتہ 17 برسوں سے بنیادی ضروریات کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

اسرائیلی حکومت نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ناکہ بندی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے تاکہ حماس اور دیگر عسکری گروہوں کو اسلحہ سمگل ہونے سے روکا جا سکے۔ اسرائیلی مؤقف کے مطابق غزہ کے لیے تمام امداد صرف منظور شدہ راستوں سے گزرنی چاہیے۔

شمالی کوریا کی اسرائیل کو گریٹا تھنبرگ کی رہائی کیلئے الٹی میٹم دینے کی خبر جھوٹی قرار

ماہرین اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں جب عالمی فلوٹیلا کو غزہ پہنچنے سے روکا گیا ہو۔

2010 میں ترک قیادت میں ماوی مرمرہ جہاز پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے میں درجنوں کارکن ہلاک ہوگئے تھے جس پر عالمی سطح پر شدید غم و غصہ سامنے آیا اور اسرائیل کے ترکی کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔

اگرچہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس کی ناکہ بندی بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے، لیکن ناقدین کے نزدیک یہ اقدام غزہ کے شہریوں کے خلاف اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ نیا تنازعہ مشرق وسطیٰ اور یورپ میں پھیلتے احتجاج کے باعث اسرائیل پر مزید سفارتی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

Related Posts