سوشل میڈیا پر گزشتہ روز ایک انوکھا اور حیران کن دعویٰ گردش کرتا رہا کہ شمالی کوریا نے اسرائیل کو مبینہ طور پر 24 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا ہے تاکہ وہ سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو رہا کرے جنہیں غزہ جانے والی گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی فورسز نے گرفتار کر لیا تھا۔
اس خبر نے چند ہی گھنٹوں میں بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی اور یورپ کے مختلف ممالک بشمول یونان، اٹلی اور بلجیم میں فلسطینیوں کے حق میں احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ اسی دوران سوشل میڈیا صارفین نے دعویٰ کیا کہ شمالی کوریا نے اسرائیل کو براہِ راست دھمکی دی ہے۔

تاہم حقائق کی جانچ سے واضح ہوا کہ شمالی کوریا کی جانب سے اس نوعیت کا کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ یہ خبر دراصل ایک طنزیہ پوسٹ سے جنم لینے والا پروپیگنڈا تھی، جسے سوشل میڈیا نے بڑھا چڑھا کر خبر میں بدل دیا۔ بعد ازاں جب فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارمز نے اس کہانی کو جھوٹا قرار دیا تو یہ موضوع تیزی سے اپنی اہمیت کھو بیٹھا۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ستمبر کے آخر میں شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں اسرائیل کو غزہ سے نکلنے کا مطالبہ ضرور کیا تھا۔
اس موقع پر شمالی کوریا کے نائب وزیر خارجہ کم سون گیونگ نے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے 80 سال گزرنے کے باوجود مشرقِ وسطیٰ میں کھلے عام نسل کشی اور انسانیت سوز مظالم ڈھائے جا رہے ہیں جو ہٹلر کے مظالم سے بھی بڑھ سکتے ہیں اور دنیا ان جرائم پر سخت تشویش کا شکار ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








