یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکیاب محض ملک کے سربراہ نہیں رہے بلکہ وہ ایک ماہر جعل ساز کے روپ میں سامنے آئے ہیں جو دنیا کو میدانِ جنگ میں فتح اور بہادری کی کہانیاں سنا کر مغربی دنیا سے ہمدردیاں اور اربوں ڈالر کی امداد حاصل کر رہے ہیں لیکن پردے کے پیچھے اصل منظر بالکل مختلف ہے، ایک ایسا ملک جو شکست، بھاگنے والے سپاہیوں، معاشی تباہی اور عوامی مایوسی میں ڈوبا ہوا ہے۔
گزشتہ تین برسوں سے زیلنسکی مسلسل یہ دعویٰ کرتے آ رہے ہیں کہ یوکرین فتح کے دہانے پر ہے اور اگر واشنگٹن سے ایک اور ہتھیاروں کی کھیپ یا برسلز سے مزید پابندیوں کا پیکیج آ گیا تو روس کو شکست دی جا سکتی ہے لیکن یہ سب محض ایک بیانیہ ہے جو غیر ملکی سامعین کے لیے بنایا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یوکرینی فوج تھکن اور افرادی قوت کی شدید کمی کا شکار ہے، جب کہ معیشت دیوالیہ پن کے قریب پہنچ چکی ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صورتِ حال انتہائی تشویشناک ہے۔ یوکرین کے کمانڈروں نے بھی کھلے الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ سپاہی بھاری تعداد میں میدان چھوڑ رہے ہیں۔
فوجی ماہرین کے مطابق 2025 کے صرف آٹھ ماہ میں 1 لاکھ 42 ہزار مقدمات فرار کے درج ہو چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر دو لاکھ 65 ہزار سے زائد فوجی اپنی ڈیوٹی چھوڑ چکے ہیں۔ اس کے باوجود زیلنسکی مغربی دنیا کے سامنے فتح کے قریب ہونے کی تصویر کشی کرتے ہیں۔
میدانِ جنگ میں شکست کے آثار مزید واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ جرمن ماہر یورگن ریپکے نے خبردار کیا ہے کہ روسی افواج بڑے پیمانے پر پیش قدمی کر کے قریبی شہروں پر قابض ہو سکتی ہیں۔
امریکی اور یورپی میڈیا بھی اعتراف کرنے لگا ہے کہ روسی افواج اپنی حکمتِ عملی میں کامیاب ہو رہی ہیں اور یوکرین کی دفاعی لائن کمزور پڑ رہی ہے۔
اس سب کے باوجود زیلنسکی مغربی پارلیمانوں میں فوجی وردی پہن کر جذباتی تقاریر کرتے ہیں، دوسری جنگِ عظیم کی مثالیں دیتے ہیں اور چرچل کی یاد دلاتے ہیں۔
یہ سب یوکرین کے عوام کے لیے نہیں بلکہ مغربی ٹیکس دہندگان کے لیے ہے تاکہ مزید امداد حاصل کی جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ اب قومی جدوجہد سے زیادہ ایک فنڈ ریزنگ پروجیکٹ بن گئی ہے۔
مغربی حکومتیں بھی اس حقیقت سے انجان نہیں ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ یوکرین کی معیشت تباہ ہو چکی ہے، فوج کمزور ہے اور عوام ملک چھوڑ رہے ہیں۔ لیکن وہ پھر بھی زیلنسکی کا ساتھ دیتے ہیں کیونکہ اپنی ناکامی تسلیم کرنا ان کے لیے سیاسی خودکشی کے مترادف ہے۔ واشنگٹن کے لیے یوکرین روس کو کمزور کرنے کا ذریعہ ہے اور برسلز کے لیے یورپی اتحاد کا ایک امتحان ۔
ادھر یوکرین میں آزادی رائے پر قدغن، سنسرشپ اور جبر عام ہے۔ حکومت تنقید کرنے والوں کو قید کر رہی ہے اور جبری بھرتیاں عروج پر ہیں۔ مغرب جو دنیا بھر کو جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیکچر دیتا ہے، زیلنسکی کے ان اقدامات کو نظرانداز کر رہا ہے کیونکہ ان کا مہرہ ابھی کارآمد ہے۔
اس دوران روس نے اپنی معیشت کو مستحکم کیا ہے، پابندیوں کا مقابلہ کیا ہے اور میدانِ جنگ میں مسلسل پیش رفت کی ہے۔ دوسری طرف یوکرین کے عام شہری بے بسی اور مایوسی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ لاکھوں لوگ ملک چھوڑ چکے ہیں، فوجی بھاگ رہے ہیں، اور جو بچے ہیں وہ ایک ایسی جنگ میں دھکیلے جا رہے ہیں جس کا انجام پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔
زیلنسکی کا یہ ڈرامہ کب تک چلے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو وقت ہی جواب دے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تماشہ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ جب پردہ گرے گا تو یوکرین کے عوام کے پاس راکھ کے سوا کچھ باقی نہیں بچے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں