امریکا اور چین کی ترقی دیکھ کر جرمنی کو اپنی آٹو انڈسٹری کی فکر لگ گئی۔ بڑھتی مسابقت کے دباؤ نے برلن میں خطرے کی گھنٹی بجا دی، اس سلسلے میں 9 اکتوبر کو ایک بڑی آٹو سمٹ بلائی جا رہی ہے، جس میں حکام سر جوڑ کر بیٹھیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ جرمن آٹو انڈسٹری کو کس طرح دوبارہ عالمی دوڑ میں سب سے آگے لایا جا سکتا ہے۔
انادولو ایجنسی کے مطابق اجلاس برلن میں ہوگا جس میں جرمن چانسلر فریڈرک میرٹز، نائب چانسلر اور وزیر خزانہ لارس کلِنگ بائل سمیت کابینہ کے دیگر اراکین، آٹو انڈسٹری کے نمائندے، مینوفیکچررز، سپلائرز اور مزدور یونینوں کے رہنما شریک ہوں گے۔
سرکاری ترجمان اسٹیفن میئر کے مطابق یہ دو گھنٹے کا اجلاس مستقبل کی ٹیکنالوجیز کے لیے آٹو انڈسٹری کو تیار کرنے، روزگار کے تحفظ اور ماحولیاتی اہداف پر مشترکہ حل تلاش کرنے پر مرکوز ہوگا۔ اس دوران یورپی یونین کے 2035 سے پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی فروخت ختم کرنے کے منصوبے پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
مانچسٹر میں یوم کپور کے اجتماع پر حملہ! 2 یہودی ہلاک، حملہ آور بھی جان سے گیا
چانسلر میرٹز نے حال ہی میں میونخ انٹرنیشنل موٹر شو کے افتتاح پر کہا تھا کہ آٹو انڈسٹری اب بھی جرمنی کی خوشحالی کی بنیاد ہے، تاہم اسے سنگین اصلاحات اور نئی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ اسی پس منظر میں جرمن حکومت یورپی یونین پر زور دے رہی ہے کہ کاربن اخراج میں کمی کے اہداف میں نرمی کرے اور روایتی گاڑیوں پر پابندی کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
ماہرین کے مطابق جرمن آٹومیکرز کو الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری میں بھاری لاگت، یورپ و چین میں کمزور طلب اور بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکی اور چینی کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نمایاں برتری حاصل کر چکی ہیں جبکہ جرمن ادارے اخراجات کم کرنے اور ملازمین کی چھانٹی پر مجبور ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے آٹو پارٹس سپلائر بوش نے بھی 2030 تک مزید 13 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ آٹو انڈسٹری جرمنی کی معیشت میں کل اضافی قدر کا 5 فیصد، روزگار کا 3 فیصد فراہم کرتی ہے اور برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ڈالتی ہے۔ صرف 2024 میں جرمن آٹو برآمدات 262 ارب یورو رہیں، جو مجموعی برآمدات کا 17 فیصد تھیں۔ سال کے اختتام تک اس شعبے میں تقریباً 772,900 افراد روزگار سے وابستہ تھے۔
چانسلر میرٹز کے بقول آٹو سیکٹر اب بھی جرمنی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے لیکن اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ صنعت عالمی دوڑ میں پیچھے رہ سکتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








