مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں آج سے حماس اور اسرائیل کے درمیان باہمی رابطے کے بغیر جنگ بندی سے متعلق مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق یہ بات چیت اگلے دو دن تک جاری رہے گی جس میں فریقین براہ راست ایک دوسرے سے نہیں بلکہ تیسرے فریق کے ذریعے گفتگو کریں گے۔
مذاکرات میں حماس اور اسرائیل کے علاوہ امریکہ کا وفد بھی شریک ہو رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اورمشیر جیراڈ کشنر اور ایک خصوصی ایلچی مصر پہنچ چکے ہیں تاکہ جنگ بندی کے معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے دونوں فریقین پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ جنگ بندی کے عمل کو تیز کیا جائے۔ حماس کی جانب سے اس بات پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے کہ تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات میں حصہ لیا جائے گا۔
ادھر اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ جلد تمام یرغمالیوں کو بازیاب کرا لیا جائے گا۔ امریکی صدر کی جانب سے بیان دیا گیا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں آج سے مصر میں دوبارہ مذاکرات کا آغاز کریں گی۔
یاد رہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری اس طویل جنگ میں اب تک ہزاروں فلسطینی شہید اور بڑی تعداد میں اسرائیلی بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ فلسطینی علاقوں میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








