پاکستانی صارفین کو انٹرنیٹ مہنگا کیوں پڑتا ہے؟ جانیں دنیا کے کم نرخوں کے پیچھے کی حقیقت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستانی صارفین انٹرنیٹ کے لیے برطانیہ اور کئی دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ پیسے ادا کررہے ہیں۔ وی آر سوشل کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ 2025 میں پاکستان میں فکسڈ براڈبینڈ انٹرنیٹ کی قیمت عالمی سطح پر نمایاں مہنگی ہے جو ملک کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

وی آر سوشل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 میں دنیا کے کئی ممالک میں انٹرنیٹ کی قیمتوں میں بہت فرق دیکھا جا رہا ہے تاہم پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں فکسڈ براڈبینڈ انٹرنیٹ سب سے مہنگا ہے۔ آج کے دور میں جہاں آن لائن خریداری، ای کامرس اور آئی ٹی کا کاروبار بڑھ رہا ہے وہاں انٹرنیٹ کو سستا اور بہتر بنانا بہت ضروری ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صارفین کو فی میگابٹ فی سیکنڈ (Mbps) تقریباً 0.53 ڈالر ادا کرنا پڑتے ہیں اور یہ قیمت برطانیہ، جنوبی افریقہ اور انڈونیشیا سے زیادہ ہے جہاں انٹرنیٹ کی قیمتیں بالترتیب 0.36، 0.50 اور 0.41 ڈالر فی Mbps ہیں۔

دنیا میں کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جہاں انٹرنیٹ کی قیمتیں پاکستان سے کہیں زیادہ ہیں۔ مثلاً متحدہ عرب امارات میں انٹرنیٹ کی قیمت 4.31 ڈالر فی Mbps ہے جو پاکستان سے تقریباً آٹھ گنا مہنگا ہے۔ اسی طرح گھانا، سوئٹزرلینڈ، کینیا اور مراکش میں بھی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ ان مہنگائی کی وجہ وہاں کم مقابلہ اور مہنگی انفراسٹرکچر ہے۔

دوسری جانب مشرقی یورپ اور ایشیا کے کچھ ممالک میں انٹرنیٹ کی قیمتیں بہت کم ہیں۔ رومانیہ میں تو فی Mbps صرف 0.01 ڈالر ہے جو پاکستان سے 53 گنا سستا ہے۔ روس، تھائی لینڈ، چلی، پولینڈ اور سنگاپور جیسے ممالک میں بھی انٹرنیٹ سستا ہے جس کی وجہ مضبوط نیٹ ورک اور مارکیٹ میں صحت مند مقابلہ ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں انٹرنیٹ مہنگا ہونے کی بڑی وجوہات مارکیٹ میں کم مقابلہ، فائبر نیٹ ورک کی سست رفتار توسیع اور دیہی علاقوں میں انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔

آج کے وقت میں جہاں تعلیم کاروبار اور رابطے کے لیے انٹرنیٹ بہت ضروری ہو چکا ہے پاکستان کے لیے انٹرنیٹ کو سستا، قابل اعتماد اور زیادہ وسیع پہنچ والا بنانا بہت ضروری ہے۔ عالمی موازنہ بھی یہی بتاتا ہے کہ پاکستان کو اپنے ٹیلی کام سیکٹر میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کر کے اپنی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانا ہو گا۔

Related Posts