بھارتی چیف جسٹس کو بھری عدالت میں جوتا کیوں پڑا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Shoe thrown at Indian Chief Justice BR Gavai by lawyer during hearing
ONLINE

 بھارتی سپریم کورٹ میں اُس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب ایک 71 سالہ وکیل نے عدالت کی کارروائی کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا بھوشن رام کرشنا گاوئی، المعروف بی آر گاوئی پر جوتا پھینکنے کی کوشش کی تاہم سیکورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر مداخلت کر کے حملہ ناکام بنا دیا اور ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کرلیا۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب چیف جسٹس گاوئی روزمرہ مقدمات کی سماعت شروع کر رہے تھے۔ اسی دوران ملزم نے اچانک نعرے بازی شروع کر دی اور پھر جوتا ان کی جانب اچھال دیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے تیزی سے حرکت میں آ کر اسے قابو کر لیا۔

چیف جسٹس بی۔آر۔گاوئی نے اس صورتحال میں غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاکہ ایسے حملے مجھے متاثر نہیں کر سکتے۔انہوں نے معمول کے مطابق عدالت کی کارروائی جاری رکھی اور کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں ہونے دی۔

ذرائع کے مطابق گرفتار شخص کے پاس سپریم کورٹ کاقریبی رسائی کارڈ موجود تھا جو عام طور پر وکلا یا ان کے معاونین کو جاری کیا جاتا ہے تاہم ابھی تک حملے کی وجوہات اور محرکات سامنے نہیں آ سکے۔ پولیس اور سکیورٹی اداروں نے واقعے کی مکمل تفتیش شروع کر دی ہے۔

دوسری جانب کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا پر حملہ دراصل آئینِ ہند پر حملہ ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے اندر ہونے والا یہ واقعہ قابلِ مذمت ہے، یہ صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ ملک کے عدالتی وقار پر وار ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چیف جسٹس گاوئی گزشتہ ہفتے اپنے ایک بیان کی وجہ سے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی زد میں تھے۔

انہوں نے کھجوراہو میں موجود ہندو دیوتا وشنو کے سات فٹ بلند مجسمے کے سر کی مرمت سے متعلق ایک درخواست خارج کرتے ہوئے مبینہ طور پر ریمارکس دیئے تھے کہ جاؤ، خود دیوتا سے کہو کہ یہ مسئلہ حل کرے۔

یہ طنزیہ جملہ کئی مذہبی حلقوں کو ناگوار گزرا اور انہیں عدلیہ کے احترام کے خلاف قرار دیا گیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور عدالت کی حدود میں داخلے کے ضوابط مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔

Related Posts