خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ مقدمہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ہدایت پر درج کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق یہ مقدمہ پشاور کے ایسٹ تھانے میں صنم جاوید کی دوست، جو کہ ایک خاتون وکیل ہیں، کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق وہ دونوں رات تقریباً ساڑھے دس بجے کھانے کے بعد کینٹ کی طرف جا رہی تھیں کہ دو گاڑیوں نے ان کا راستہ روک لیا۔
ایف آئی آر کے متن میں بتایا گیا ہے کہ ان گاڑیوں میں سوار پانچ نامعلوم افراد نے صنم جاوید کو ایک مصروف سڑک پر زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھایا اور وہاں سے لے گئے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی سخت ہدایت پر اغوا کاروں کے خلاف فوری کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ یہ واقعہ قانون کی حکمرانی پر سوالیہ نشان ہے لہٰذا اس کی فوری اور مکمل تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کو گرفتار کیا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ صنم جاوید کو لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے 9 مئی 2023 کو شادمان تھانے میں جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس سے پہلے27اپریل کو بھی انہیں ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ پروپیگنڈا پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا جبکہ وہ اس سے پہلے گزشتہ سال بھی حراست میں رہ چکی ہیں۔
قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ صنم جاوید کی بہن فلک جاوید کو بھی گزشتہ ماہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیوز کے کیس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے گرفتار کیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








