پاکستان نے اب ملائیشیا کے ساتھ مل کر کرپشن کے خاتمے اور شفاف طرزِ حکمرانی کے فروغ کے لیے نئی جہت میں قدم رکھ دیا ہے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) اور ملائیشیا کے انسدادِ بدعنوانی کمیشن (ایم اے سی سی) کے درمیان بدعنوانی کے انسداد اور اس کی روک تھام کے لیے باہمی تعاون پر مبنی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے ہیں۔
یہ معاہدہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ملائیشیا کے تین روزہ سرکاری دورے کے دوران پتراجایا، کوالالمپور میں ایک خصوصی تقریب میں طے پایا، جس میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم بھی شریک تھے۔ یادداشت پر نیب کے ڈپٹی چیئرمین سہیل ناصر اور ایم اے سی سی کے چیف کمشنر اعظم بن باکی نے دستخط کیے۔
معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے احتسابی اداروں کے درمیان باہمی تعاون، معلومات کے تبادلے، تکنیکی معاونت، اور مشترکہ صلاحیت سازی کو فروغ دینا ہے تاکہ بدعنوانی کے خلاف مؤثر کارروائیاں ممکن بن سکیں اور کرپشن کے تدارک کے نظام کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
ایم او یو کے تحت پاکستان اور ملائیشیا قانون سازی، ادارہ جاتی اصلاحات، عوامی آگاہی مہمات اور پیشہ ورانہ تربیت کے شعبوں میں بھی تعاون کریں گے۔ اس سے نہ صرف سرکاری اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ عوام میں احتساب اور دیانت داری کے حوالے سے شعور بھی بڑھے گا۔
یہ معاہدہ سرحد پار بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور مالیاتی جرائم کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی مالیاتی بہاؤ کی روک تھام اور بین الاقوامی معاہدات سے ہم آہنگ قانونی فریم ورک کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان اور ملائیشیا دونوں اقوامِ متحدہ کے انسدادِ بدعنوانی کنونشن (یو این سی اے سی) کے رکن ممالک ہیں۔ اس معاہدے کے ذریعے شفافیت، احتساب اور دیانت داری کے فروغ کے حوالے سے دونوں ممالک نے اپنے مشترکہ عزم کی تجدید کی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورۂ ملائیشیا کے دوران طے پانے والے چھ اہم دوطرفہ معاہدوں میں یہ معاہدہ ایک نمایاں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جو اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان اب کرپشن کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی سطح پر عملی تعاون کے نئے باب کا آغاز کر چکا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








