صنم کے ساتھ نا انصافی کیوں، داد رسی کون کرے گا؟ پنک بس کی ملازمہ نے حقیقت سے پردہ اٹھا دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

سندھ حکومت کی کراچی میں خواتین کیلئے مخصوص پنک بس سروس کی ایک سابقہ کنڈیکٹر نے بدھ کے روز گلشنِ حدید ڈپو میں اچانک احتجاج کرتے ہوئے بسوں کی روانگی روک دی جس کے باعث سروس عارضی طور پر معطل ہو گئی۔

احتجاج کرنے والی خاتون کی شناخت صنم کے نام سے ہوئی ہے جو اپنی برطرفی کے خلاف سراپا احتجاج تھیں۔ صنم نے کہا کہ انہیں ایک ماہ قبل بغیر کسی واضح وجہ کے نوکری سے نکال دیا گیا اور کئی ہفتوں سے انصاف کے لیے دروازے کھٹکھٹا رہی ہیں لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے صنم کا کہنا تھا کہ میں اپنے گھر کی واحد کفیل ہوں اور بار بار اپیل کرنے کے باوجود کوئی میری بات نہیں سن رہا۔ جب تک مجھے نوکری واپس نہیں ملتی میرا احتجاج جاری رہے گا۔

صنم نے ڈپو کے سپروائزر پر سنگین الزامات بھی لگائے جن میں رشوت کے مطالبے کا دعویٰ شامل ہے۔ ان کے مطابق سپروائزر  نے دوبارہ ملازمت کیلئے مبینہ طور پر رقم مانگی۔

ڈپو کا عملہ احتجاج کے وقت بے بسی کا شکار نظر آیا اور فوری طور پر کوئی موثر اقدام نہ کیا جا سکا جس کے باعث پنک بس سروس میں خلل پڑا اور خواتین مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اب تک حکام کی جانب سے نہ تو واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی الزامات کی تردید یا تصدیق کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ پنک بس سروس خواتین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی تاہم اس قسم کے واقعات سروس کے تسلسل پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں۔

Related Posts