ڈرامہ میں منٹو نہیں ہوں ہر قسط کے ساتھ مقبولیت کیوں کھورہا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Drama “Main Manto Nahi Hoon” grows more cringe-worthy with each episode
ARY Digital

کراچی: اے آر وائی ڈیجیٹل کے مقبول شو کیا ڈرامہ ہے میں ججز نے ڈرامہ سیریل میں منٹو نہیں ہوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جسے انہوں نے بے تکے پلاٹ، غیر حقیقی کردار نگاری اور ناقص مکالموں کی ایک مثال قرار دیا۔

خلیل الرحمان قمر کے تحریر کردہ اور ندیم بیگ کی ہدایت کاری میں بننے والے اس ڈرامے میں مرکزی کردار ہمایوں سعید اور سجل علی ادا کر رہے ہیں۔

کہانی ایک ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے جو افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی بغاوت سے متاثر ہو کر اپنی سچائی لکھنے اور معاشرتی روایتوں کو للکارنے کا فیصلہ کرتا ہے جبکہ ایک عورت اپنے وجود کی پہچان اور آواز کے لیے جدوجہد کرتی نظر آتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک اعلیٰ بجٹ پروڈکشن ہے مگر چند ابتدائی اقساط کے بعد ناظرین کی دلچسپی تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔

ڈرامہ ریویو شو کے دوران معروف میزبان نادیا خان نے تنقیدی انداز میں کہا کہ مس ماریہ، حضرت اور منٹو جیسے کردار نہ صرف غیر فطری بلکہ ناقابلِ فہم رویوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر حضرت کے کردار کی اچانک منٹو سر سے جنون کی حد تک عقیدت اور برومینس جیسے غیر ضروری موضوعات پر مکالموں کو مضحکہ خیز قرار دیا۔

 

ججز نے ایک خاص منظر کا ذکر بھی کیا جس میں بنیامین (بابر علی) اپنے بیٹے کی موت پر غم زدہ گفتگو کے دوران اردو محاورہ گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا استعمال کرتا ہے، جسے انہوں نے غیر مناسب، غیر سنجیدہ اور سیاق و سباق سے عاری مکالمہ قرار دیا۔

ریویورز کے مطابق ڈرامے کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ اس کی پیچیدہ مگر ناقص تحریر، کرداروں کے غیر متوازن رویے اور جدید ڈرامائی اسلوب سے بے خبری ہے۔ خاص طور پر منٹو کے کردار کو ایک نفسیاتی اور غیر منطقی شخص کے طور پر دکھایا گیا ہے جبکہ دیگر کردار بھی تضادات کا شکار ہیں۔

Related Posts