بھارت کے شہر دہرادون کے ایک نجی اسپتال میں نرسوں سے فحش حرکات کرنے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ واقعہ سی ایم آئی اسپتال میں پیش آیا جہاں 43 سالہ ریٹائرڈ فوجی اہلکار رمیش سنگھ جو ایک مریض کے ساتھ بطور تیماردار موجود تھا نرسوں کے ساتھ نازیبا حرکات کرتے ہوئے پکڑا گیا۔
رمیش سنگھ پر الزام ہے کہ اُس نے نہ صرف نازیبا گفتگو کی بلکہ ایک نرس کو پانچ ہزار روپے دے کر ساتھ چلنے کی پیشکش بھی کی۔ ایک نرس نے شکایت کی کہ اس نے اسے سونے کی دعوت دی جبکہ دوسری نے بتایا کہ وہ رات کی شفٹ کے دوران مسلسل اس کا پیچھا کرتا رہا اور فون نمبر مانگتا رہا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسپتال کی کئی نرسیں غصے میں آ کر اسے تھپڑ مار رہی ہیں جبکہ ایک نرس غصے سے پوچھتی ہے تو نے ایسا کیا کہا؟ آخر میں رمیش سنگھ معافی مانگتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔
واقعے کے بعد اسپتال انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی جس پر رمیش کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے خلاف جنسی ہراسانی اور بدسلوکی کے الزامات میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
یہ واقعہ نہ صرف ہسپتالوں میں کام کرنے والی خواتین ملازمین کی سیکیورٹی پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ایسے معاملات کو سختی سے نمٹانے کی ضرورت ہے تاکہ کام کی جگہیں محفوظ بنائی جا سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








