چھوٹے کاروباروں کیلئے بڑی خوشخبری، حکومت نے فنانس تک رسائی ممکن بنا دی، جانئے پوری تفصیل

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

پاکستان میں مائیکرو اور اسمال انٹرپرائزز کی ترقی کے لیے ایک بڑا سنگ میل عبور کر لیا گیا۔

اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) اور موبی لنک مائیکرو فنانس بینک لمیٹڈ (ایم ایم بی ایل) کے درمیان ہفتہ کو ایک اہم مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے گئے، جس کا مقصد دیہات اور قصبوں میں چھوٹے کاروباروں تک مالیاتی اور کاروباری ترقیاتی خدمات کی براہِ راست رسائی کو ممکن بنانا ہے۔

سمیڈا کے صدر دفتر میں ہونے والی تقریب میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا کہ یہ شراکت وزیرِ اعظم شہباز شریف کے وژن کے عین مطابق ہے، جس کے تحت مائیکرو انٹرپرائز تک حکومتی سہولیات اور فنانسنگ پروگرامز کی رسائی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن اسے مالیاتی خواندگی اور فنانس تک محدود رسائی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ “سمیڈا اور ایم ایم بی ایل کے درمیان یہ ایم او یو اسی رکاوٹ کو دور کرنے کی طرف ایک عملی قدم ہے، جس سے چھوٹے کاروبار، خاص طور پر خواتین انٹرپرینیورز، کے لیے نئے مواقع کھلیں گے۔”

تقریب میں سمیڈا کے سی ای او سقراط امان رانا اور ایم ایم بی ایل کے صدر و سی ای او حارث محمود چوہدری نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ اس موقع پر وفاقی سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم بھی موجود تھے۔

سیف انجم نے کہا کہ یہ اشتراک نہ صرف مالیاتی خواندگی کے فروغ بلکہ کاروباری تربیت کے نئے پروگرامز کے آغاز میں بھی سنگِ میل ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق “سمیڈا اور ایم ایم بی ایل کی شراکت لاکھوں مائیکرو انٹرپرائزز تک حکومتی اور نجی خدمات پہنچانے میں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔”

سی ای او سمیڈا سقراط امان رانا نے بتایا کہ پاکستان میں مائیکرو فنانس کا کل پورٹ فولیو 650 بلین روپے سے زائد ہے، مگر خواتین قرض دہندگان کا حصہ اب بھی صرف 34.8 فیصد ہے۔ “ہم چاہتے ہیں کہ خواتین کو کاروباری دنیا میں فعال کردار دینے کے لیے مزید مالی مواقع فراہم کیے جائیں، اور یہ ایم او یو اسی سمت میں ایک مضبوط قدم ہے۔”

یاد رہے کہ سمیڈا اس سے قبل پاکستان مائیکرو فنانس نیٹ ورک اور اخوت کے ساتھ بھی اشتراکات کر چکا ہے تاکہ غیر رسمی کاروباروں کو رسمی فریم ورک میں شامل کیا جا سکے۔

ہارون اختر خان نے اس موقع پر کہا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر “ویمن انٹرپرینیور شپ پالیسی” بھی تیار کی جا چکی ہے تاکہ خواتین کاروباری افراد کو حکومتی مالیاتی اسکیموں میں مساوی نمائندگی دی جا سکے۔

انہوں نے سمیڈا اور ایم ایم بی ایل کی انتظامیہ کو مائیکرو انٹرپرائزز کی بہتری کے لیے اشتراک عمل پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم پاکستان کی مقامی معیشت کو خود کفالت اور پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالنے میں مدد دے گا۔

Related Posts