بریانی سے کھچڑی تک! دلچسپ ڈرامہ اپنا ذائقہ کیوں کھو بیٹھا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

From Biryani to Khichdi: How did the drama lost its flavor?
ONLINE

اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر ہونیوالا پاکستانی ڈرامہ بریانی حالیہ دنوں میں ناظرین کے درمیان شدید بحث و مباحثے کا باعث بن گیا ہے۔

ابتدا میں ناظرین کو اپنی منفرد کہانی اور مرکزی کرداروں خوشحال خان اور رمشا خان کی کیمسٹری کے باعث متاثر کر چکا تھامگر اب بہت سے شائقین کے نزدیک یہ مزیدار بریانی رفتہ رفتہ بے ذائقہ کھچڑی بنتی جا رہی ہے۔

ڈرامے کی تعریف بھی ہوئی اور تنقید بھی۔ کچھ ناظرین کے مطابق کہانی میں جذباتی گہرائی موجود ہے جبکہ دیگر کے نزدیک یہ غیر ضروری موڑ اور کمزور تسلسل کے باعث اپنے اصل تاثر سے دور جا چکی ہے۔

ڈرامہ ایک سادہ اور دلچسپ بنیاد پر شروع ہوتا ہے نیسا (رمشا خان) ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی یونیورسٹی کی طالبہ ہے، جسے ایک نوآموز مگر جاگیردار گھرانے سے تعلق رکھنے والے میران (خوشحال خان) کی رہنمائی کا کام سونپا جاتا ہے۔

تاہم کہانی اس وقت غیر متوقع موڑ لیتی ہے جب انکشاف ہوتا ہے کہ میران پہلے سے شادی شدہ ہے اس کی بیوی گل مہر (ثروت گیلانی) کہانی میں اچانک ظاہر ہوتی ہے۔

یہ موڑ ناظرین کے لیے حیران کن تو تھا مگر کئی لوگوں نے اسے غیر منطقی قرار دیا، کیونکہ یہ کرداروں کی عمر، رویے اور ٹائم لائن سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ٹویٹر اور انسٹاگرام پر ڈرامے کے مناظر پر طنزیہ تبصرے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ناظرین کا کہنا ہے کہ کہانی اب بار بار ایک ہی لڑائی، ایک ہی مفاہمت پر گھوم رہی ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ پہلے نیسا کہتی ہے ‘میران تم دفع ہو جاؤ’ پھر اگلے سین میں کہتی ہے ‘میران، تم گھر آ جاؤ!’ یہ کیا چکر ہے؟

کچھ ناظرین نے نیسا کے کردار کو بدتمیز کہا جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ میران کو غیر ضروری طور پر ذلیل دکھایا جا رہا ہے۔

نقادوں کے مطابق ڈرامے میں کرداروں کی نفسیات، عمر اور محرکات کے درمیان مطابقت نہیں رہی جس سے کہانی کا وزن کمزور ہو گیا ہے۔

 

اکیسویں قسط تک پہنچتے پہنچتے شائقین کا کہنا ہے کہ بریانی کا ذائقہ اب مدھم ہو گیا ہے۔ جیسے ایک پکوان جو ابتدا میں خوشبو سے لبریز ہو مگر بعد میں زیادہ مصالحہ ڈالنے سے پھیکا لگنے لگے۔

سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے طنزاً لکھا کہ بریانی اب کھچڑی بن گئی ہے۔ شاید اب بھی ‘کابلی پلاؤ’ ہی ڈراموں کی دنیا کا اصل کلاسک ہے۔

Related Posts