کراچی: محکمہ موسمیات نے عرب سمندر میں بننے والے موسمی دباؤ کے حوالے سے تیسرا وارننگ الرٹ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق یہ نظام بتدریج شمال مشرق کی جانب بڑھ رہا ہے تاہم پاکستان کے ساحلی علاقوں کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ موسمی نظام گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید منظم اور طاقتور ہوا ہے مگر اس کی موجودہ سمت اور شدت پاکستان کے کسی بھی ساحلی علاقے پر براہ راست اثرانداز نہیں ہو گی۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اس دباؤ کا مرکز 13پوائنٹ 3 ڈگری شمالی عرض البلد اور 70پوائنٹ 5 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع ہے جو کراچی سے تقریباً 1340 کلومیٹر جنوب مشرق اور بھارتی جزائر لکشدیپ سے تقریباً 340 کلومیٹر شمال مغرب کی جانب ہے۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران یہ نظام مشرقی عرب سمندر کی جانب اپنی موجودہ سمت میں ہی آگے بڑھتا رہے گا۔
اگرچہ دباؤ کی شدت میں اضافہ دیکھا گیا ہے تاہم کراچی، ٹھٹھہ اور گوادر سمیت کسی بھی پاکستانی ساحلی پٹی پر اس کے اثرات کا امکان نہیں۔
ٹراپیکل سائیکلون وارننگ سینٹر نے اس موسمی نظام کی مسلسل نگرانی شروع کر دی ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اگر اس نظام کی سمت یا شدت میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی تو فوری طور پر نیا الرٹ جاری کیا جائے گا۔
عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور صرف محکمہ موسمیات کے سرکاری بلیٹن پر بھروسہ کریں۔
ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں عرب سمندر میں اس نوعیت کی سرگرمیاں عام ہوتی ہیں کیونکہ ان مہینوں میں سمندر کا درجہ حرارت طوفانی نظاموں کے لیے سازگار رہتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








