ممبئی: بھارت میں جاری آئی سی سی ویمن کرکٹ ورلڈکپ کے دوران آسٹریلوی ویمن کرکٹرز کے ساتھ پیش آنے والا نازیبا واقعہ بھارتی انتظامیہ کے سکیورٹی اقدامات پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
اندور شہر میں ایک موٹر سائیکل سوار شخص نے دو آسٹریلوی کھلاڑیوں میں سے ایک کو انتہائی غیر اخلاقی انداز میں چھوا اور موقع سے فرار ہوگیا جس نے بین الاقوامی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب آسٹریلیا کی دو ویمن کرکٹرز ہوٹل سے کیفے ٹیریا کے لیے روانہ ہوئیں۔
اسی دوران ایک موٹر سائیکل پر سوار شخص نے ان میں سے ایک کھلاڑی کو نازیبا طریقے سے چھوا اور تیزی سے فرار ہو گیا۔ آسٹریلوی ٹیم نے فوری طور پر واقعے کی اطلاع سکیورٹی افسر کو دی، جس کے بعد علاقائی پولیس کو آگاہ کیا گیا۔
پولیس کے مطابق، آسٹریلوی سکیورٹی ٹیم کی شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کی گئیں۔
ایک عینی شاہد نے ملزم کی موٹر سائیکل کا نمبر نوٹ کر لیا تھا، جس کی مدد سے پولیس نے اسے چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا۔
ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم کا پہلے سے بھی مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے۔ پولیس نے اسے حراست میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
کرکٹ شائقین اور سماجی حلقوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی سی سی جیسے عالمی ایونٹ کے دوران غیر ملکی کھلاڑیوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات بھارت کی سکیورٹی اور اخلاقی ذمہ داریوں پر سوالیہ نشان ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ خواتین کے تحفظ کے حوالے سے اس معاشرتی بحران کو بھی اجاگر کرتے ہیں جو ملک کے مختلف حصوں میں عام ہو چکا ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، بھارت میں خواتین کے خلاف ہراسانی کے بڑھتے واقعات عالمی کھیلوں کی میزبانی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی سی سی کو اس معاملے پر سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ٹیم یا کھلاڑی کو اس طرح کے خطرناک اور شرمناک واقعات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








