سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احسان نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان کے پہلے دور حکومت کے اس وقت کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو پاکستان نے نہیں بلکہ افغان حکومت نے امریکہ کے حوالے کیا تھا۔
اسلام آباد میں خیبر مارگلہ فاؤنڈیشن کے تحت سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جنرل احسان کا کہنا تھا کہ ملا ضعیف کو طورخم بارڈر پر افغان حکام کے حوالے کیا گیا تھا، بعد میں انہوں نے اسے امریکہ کے حوالے کیا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بعد افغان طالبان کا سفارتی درجہ ختم ہو چکا تھا، اس لیے ملا ضعیف کو سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں تھا۔
جنرل احسان کے مطابق اُس وقت ملا ضعیف کی رہائش گاہ کے باہر عالمی میڈیا کا ہجوم رہتا تھا اور مختلف ممالک پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے۔ جس پر ہم ان سے درخواست کرتے رہے کہ وہ باز آجائیں مگر وہ تیار نہیں تھے، آخرکار افغان حکومت کے مطالبے پر انہیں حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ طورخم لے جاتے وقت بھی ملا ضعیف کو آپشن دیا گیا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو پاکستان میں کسی اور مقام پر منتقل کر دیے جائیں گے، مگر انہوں نے انکار کر دیا۔
جنرل احسان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ پاک افغان تعلقات کی پیچیدہ نوعیت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس میں کس قدر غلط بیانی شامل رہی۔ ان کے مطابق حتیٰ کہ افغان طالبان نے بھی ملا ضعیف کی حمایت نہیں کی کیونکہ انہیں اصل صورتِ حال معلوم تھی۔
واضح رہے کہ ملا عبدالسلام ضعیف نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں پشاور میں امریکی حکام کے حوالے کیا گیا تھا، تاہم جنرل احسان کی گفتگو سے 24 سال بعد ایک نیا پہلو سامنے آگیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








