پاکستان سمیت دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری آج بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف یومِ سیاہ ملی جوش جذبے سے منا رہے ہیں۔ اس دن کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور بھارتی ظلم و جبر کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔
اسلام آباد میں اس موقع پر مرکزی یکجہتی واک وزارتِ خارجہ سے ڈی چوک تک نکالی جائے گی جس میں عوام، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندے شرکت کریں گے۔ دارالحکومت کی سڑکوں، پارلیمنٹ ہاؤس اور ڈی چوک پر کشمیر بنے گا پاکستان کے بینرز اور پوسٹرز آویزاں کر دئیے گئے ہیں۔
یوم سیاہ کے موعقع ملک بھر میں احتجاجی واکس، سیمینارز، تصویری نمائشیں اور ریلیاں منعقد کی جا رہی ہیں۔ یومِ سیاہ کے حوالے سے اسلام آباد کی شاہراہوں، چوراہوں اور سرکاری عمارتوں پر فلیکس اور جھنڈے لگائے گئے ہیں۔
اسلام آباد کے علاوہ مظفرآباد، کراچی، لاہور اور پشاور میں بھی ریلیوں اور واکس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جبکہ صبح 10 بجے کشمیری شہداء کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔
یومِ سیاہ کی سرگرمیوں کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ ایمان، اتحاد اور آزادی کے عزم کا اظہار ہے۔ اس موقع پر عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔
وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت اسکولوں اور کالجوں میں بھی تقاریب منعقد ہو رہی ہیں جبکہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور چاروں صوبوں میں قومی یکجہتی اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے لیے عوامی حمایت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ہر سال 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ کشمیر اس دن کی یاد میں منایا جاتا ہے جب 1947 میں بھارتی افواج نے سری نگر میں داخل ہو کر جموں و کشمیر پر قبضہ کرلیا تھا۔
یہ دن جنوبی ایشیا کی تاریخ کا ایک سیاہ باب تصور کیا جاتا ہے جو بھارت کے غیر قانونی قبضے کے آغاز کی علامت ہے۔ 27 اکتوبر اب بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری مظالم اور پاکستان کے اٹل عزم و حمایت کی یاد دلاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








