حکوت اور ہالمور پاور کمپنی کا قانونی تنازعہ! 80 ملین ڈالر بجلی صارفین سے لیے جائیں گے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاور ڈویژن کو ہالمور پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ (ایچ پی سی ایل) کی جانب سے جاری کیے گئے ثالثی نوٹس (Notice of Arbitration) کا قانونی جواب تیار کرنے کے لیے اربوں روپے کے اخراجات برداشت کرنا ہوں گے اور یہ رقم بعد ازاں بجلی صارفین سے وصول کی جائے گی۔

پاکستان میں انگریزی زبان کے معروف اخبار بزنس ریکارڈر کے مطابق 225 میگاواٹ کے ہالمور پاور پلانٹ کے مالک میاں کریم الدین نے پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سرمایہ کار ریاست ثالثی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطح اجلاس اٹارنی جنرل آفس کے بین الاقوامی تنازعات یونٹ میں منعقد ہوا جس میں غیر ملکی قانونی فرموں کے انتخاب کے لیے طے شدہ طریقہ کار پر غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق میاں کریم الدین نے 8 اکتوبر 2025 کو یہ نوٹس جمع کروایا جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے پاک برطانیہ دوطرفہ سرمایہ کاری معاہدے (Bilateral Investment Treaty) کی خلاف ورزی کی ہے۔ نوٹس میں تقریباً 80 ملین امریکی ڈالر کے دعوے کی رقم بتائی گئی ہے۔

دعوے کے مطابق پاکستان کے اقدامات نے ہالمور پاور جنریشن کمپنی میں کی گئی سرمایہ کاری کو متاثر کیا۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت نے 2021 میں ٹیرف کم کر کے اور 2024 میں مزید سخت اقدامات کرتے ہوئے سرمایہ کاروں پر دباؤ ڈالا، کمپنی کے سی ای او کو دھمکیاں دی گئیں، ادائیگیاں روکی گئیں اور قانونی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا۔

نوٹس کے مطابق پاکستان کے ان اقدامات نے بین الاقوامی معاہدے کے تحت منصفانہ اور مساوی سلوک کی شقوں کی خلاف ورزی کی۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ثالثی جینیوا (سوئٹزرلینڈ) میں ہوگی اور اس کی نگرانی پرمننٹ کورٹ آف آربیٹریشن کرے گی۔ ہالمور کمپنی نے تین ثالثوں (Arbitrators) پر مشتمل پینل کی تشکیل تجویز کی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کو 8 نومبر 2025 تک نوٹس کا باضابطہ جواب جمع کروانا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے اٹارنی جنرل آفس اور پاور ڈویژن نے فیصلہ کیا ہے کہ 23 اکتوبر تک کیس کا تفصیلی تجزیہ مکمل کیا جائے گا، قابلِ اعتماد بین الاقوامی قانونی فرم کا انتخاب کیا جائے گا، اور 5 نومبر 2025 تک جواب کا مسودہ تیار کر لیا جائے گا۔

نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ ہالمور کمپنی نے بھکی پاور پلانٹ میں 100 ملین امریکی ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی تھی جو 25 جون 2011 سے تجارتی طور پر فعال ہے، اور اس منصوبے کے لیے خصوصی ضوابط 2041 تک نافذ العمل رہیں گے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق حکومت پاکستان اب اس قانونی تنازعے سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے اور اخراجات کے بندوبست پر غور کر رہی ہے۔

Related Posts