مسیح کو مصلوب اور دفن بھی یہیں کیا گیا! آپ یروشلم کے چرچ آف دی ہولی سیپلچر کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Church of the Holy Sepulchre in Jerusalem
ONLINE

امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس اور انکی اہلیہاوشا وانس نے یروشلم میں چرچ آف دی ہولی سیپلچر کا دورہ کیا جو یسوع مسیح کی مصلوبیت اور جی اٹھنے کی جگہ ہے۔

یروشلم کے قدیم شہر کے قلب میں واقع چرچ آف دی ہولی سیپلچر دنیا بھر کے مسیحیوں کے لیے سب سے مقدس مقام مانا جاتا ہے۔ یہی وہ تاریخی اور روحانی جگہ ہے جہاں مسیح کو مصلوب کیا گیا، دفن کیا گیا اور بائبل کے مطابق وہیں سے ان کا جی اُٹھنا واقع ہوا۔

 

یہ عظیم الشان چرچ چوتھی صدی عیسوی میں بازنطینی شہنشاہ قسطنطین اعظم کی والدہ ملکہ ہیلینا کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا۔

انہوں نے 326 عیسوی میں اس مقام کی نشاندہی کی، جسے بعد میں مسیحی روایات کے مطابق گولگوتھا یا کیلوری کہا گیا یعنی وہ جگہ جہاں حضرت مسیح کو مصلوب کیا گیا تھا۔

چرچ کی عمارت اپنے اندر کئی مقدس مقامات سمیٹے ہوئے ہے، جن میں اسٹون آف انوائنٹنگ شامل ہے، جہاں مسیح کے جسدِ خاکی کو تدفین سے قبل خوشبودار تیلوں سے آراستہ کیا گیا۔

اسی طرح دی ایڈی کول کہلانے والا چھوٹا سا گنبد مسیح کی قبر پر تعمیر کیا گیا ہے، جو آج بھی زائرین کے لیے سب سے زیادہ عقیدت و احترام کا مرکز ہے۔

چرچ آف دی ہولی سیپلچر کی انتظامی نگرانی بیک وقت چھ مختلف مسیحی فرقوں کے پاس ہے جن میں رومن کیتھولک، یونانی آرتھوڈوکس، آرمینیائی آرتھوڈوکس، قبطی، ایتھوپیائی، اور شامی آرتھوڈوکس چرچ شامل ہیں۔

یہ انتظامی تقسیم صدیوں سے چلی آ رہی ہے اور کسی بھی تبدیلی کے لیے تمام فرقوں کی باہمی رضامندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چرچ کا مرکزی دروازہ دو مسلمان خاندانوں کے زیرِ نگرانی ہے، جو صدیوں سے اس کے دروازے کی چابی کے محافظ ہیں، یہ روایت صلاح الدین ایوبی کے دور سے جاری ہے، تاکہ مسیحی فرقوں کے درمیان کسی قسم کے تنازعے سے بچا جا سکے۔

یہ چرچ ہر سال لاکھوں زائرین، سیاحوں اور مذہبی یاتریوں کی عقیدت کا مرکز بنتا ہے۔ ایسٹر کے موقع پر یہاں عظیم روحانی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں، جن میں دنیا بھر سے مسیحی شامل ہوتے ہیں۔

چرچ آف دی ہولی سیپلچر نہ صرف ایک عبادت گاہ بلکہ انسانی تاریخ، ایمان کی ایک زندہ علامت کے طور پر بھی اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔

Related Posts