وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اعلان کیا ہے کہ پورٹ قاسم کو جدید اور ترقی یافتہ خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان اپنے 100 ارب ڈالر کے ریونیو ہدف کا کم از کم نصف حاصل کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ پورٹ قاسم اب ایک بڑے صنعتی اور تجارتی مرکز کے طور پر اُبھر رہا ہے۔
ایک تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیر نے بتایا کہ پورٹ قاسم کو دنیا کے اُن بندرگاہوں میں شامل کیا گیا ہے جنہوں نے سب سے زیادہ بہتری دکھائی عالمی درجہ بندی میں اسے نویں سب سے زیادہ ترقی کرنے والی کنٹینر پورٹ قرار دیا گیا ہے۔ یہ کامیابی جاری اصلاحات اور جدید کاری کے منصوبوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پورٹ قاسم کی کارکردگی کا اسکور 35.2 پوائنٹس بہتر ہوا ہے، جو اس بات کا مظہر ہے کہ بندرگاہ پر کارگو کے قیام کے وقت میں کمی، برتھ آپریشنز میں بہتری، اور ڈیجیٹل مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ حکومت کا مقصد پورٹ قاسم کو ایک علاقائی تجارتی و صنعتی گیٹ وے میں تبدیل کرنا ہے جو بنیادی ڈھانچے کی توسیع، صنعتی ترقی اور ماحولیاتی طور پر پائیدار بحری طریقوں کے ذریعے پاکستان کی معاشی ترقی میں کردار ادا کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پورٹ قاسم کا تزویراتی محلِ وقوع اور صنعتی کمپلیکس اسے قومی ریونیو اہداف کے حصول میں کلیدی کردار دینے کے قابل بناتا ہے۔
محمد جنید انور چوہدری نے مزید انکشاف کیا کہ اگلی دہائی کے لیے 13 ارب ڈالر کی بچت کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت پاکستان کا پہلا ’’سی ٹو اسٹیل‘‘ گرین میری ٹائم انڈسٹریل کوریڈور قائم کیا جائے گا تاکہ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی میں مدد مل سکے۔
اس منصوبے کے تحت بندرگاہی سرگرمیوں کو صنعتی پیداوار سے جوڑا جائے گا، جس سے بحری لاجسٹکس سے لے کر اسٹیل مینوفیکچرنگ تک ایک مربوط ویلیو چین قائم ہوگی۔
پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں آئرن اور کول برتھ (IOCB) ٹرمینل کی بحالی کی جائے گی۔
مزید یہ کہ ایک ’’انٹیگریٹڈ میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس‘‘ (IMIC) بھی قائم کیا جائے گا جو شپ ری سائیکلنگ کو اسٹیل پیداوار سے منسلک کرے گا، جس سے مقامی صنعت کو فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








