استنبول مسلم وزرائے خارجہ کا مشترکہ اعلامیہ۔۔۔کیا اسرائیل جنگ بندی کی پابندی کرسکے گا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار پیر کوترکی کے تاریخی ساحلی شہر استنبول پہنچےاور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی میزبانی میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی جارحیت کے بعدغزہ جنگ بندی کی تازہ ترین پیش رفت پر مبنی ڈونلڈ ٹرمپ کی تشکیل شدہ 8اسلامی وزرائے خارجہ کی کوآرڈینیشن میٹنگ میں شرکت کی۔

اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری جنگ بندی کی مکمل پاسداری ، غزہ میں انسانی امداد کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے، فلسطینیوں کو حقِ خود ارادیت دینے، قومی نمائندگی تسلیم کرنے اور 20 نکاتی معاہدے کے تحت روزانہ کی بنیاد پر کم از کم 600امدادی ٹرکس کو غزہ میں داخل ہونے اور 50 ایندھن بردار گاڑیوں کو فوری غزہ بھیجنے کے مطالبات کیے گئے۔

اعلامیے کے مطابق بین الاقوامی استحکام فورس کا قیام زیر غور ہے جبکہ غزہ کا سیاسی انتظام کسی بیرونی قوت کی بجائے فلسطینیوں کےہی پاس ہونا چاہئے۔ متعلقہ عرب اور اسلامی ممالک کا ماننا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کے غزہ پر حملے تشویشناک ہیں جن کے نتیجے میں مزید 250 فلسطینی شہید ہوگئے۔یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بین الاقوامی استحکام فورس جن ممالک نے بھیجنی ہے، وہ سلامتی کونسل کی منظوری سے بھیجی جائے گی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ پارلیمنٹ سے بھی اس کی منظوری لی جائے گی۔

اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان کی توجہ نہ صرف مسلم دنیا کے سفارتی اتحاد کو مزید مستحکم کرنے بلکہ عالمی برادری پر اسرائیل کے خلاف دباؤ بڑھانے میں کلیدی کردار کرنے پر بھی مرکوز رہی، خاص طور پر جب غزہ میں اعلانیہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے؛ پاکستان کی اس فعال شرکت پر یہ امید برآتی ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کو بھی امن و امان کے ساتھ اپنے اس وطن میں زندگی گزارنے کا موقع ملے گا جسے اسرائیل کے دو سال طویل زمینی و فضائی حملوں نے کھنڈرات میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کی جارحانہ پالیسیاں خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کا باعث ہیں، جہاں اکتوبر 2025 میں انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے پر “طاقتور حملوں” کا حکم دیا، جو ان کے “گریٹر اسرائیل” کے مذموم تصور پر مبنی توسیع پسندانہ منصوبے کا حصہ ہیں اور عالمی قوانین کی پامالیوں کا یہ سلسلہ جاری و ساری ہے جس کے تحت انسانی خون کی ندیاں بہائی جارہی ہیں۔ غزہ کے مظلوم فلسطینی جو پہلے ہی بے گھر ہیں، ان پر زمین تنگ کی جارہی ہے اور سب سے زیادہ تکلیف دہ امر تو یہ ہے کہ اسرائیلی حملوں میں شہید اور زخمی ہونے والوں میں ہزاروں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ عالمی جنگی قوانین، خاص طور پر چوتھا جنیوا کنونشن 1949، جنیوا کنونشنز کے اضافی پروٹوکول1977، اور روم سٹیٹوٹ (1998) مسلح تصادم کے دوران خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے، قتل، تشدد، یا نقصان پہنچانے سے سختی سے روکتے ہیں اور شہریوں کو خصوصی تحفظ دیتے ہیں جن کی خلاف ورزی کو جنگی جرم سمجھا جاتا ہے۔

غزہ میں جاری انسانی بحران اب انتہائی سنگین مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں بچوں اور خواتین سمیت ہزاروں فلسطینیوں کی شہادتوں کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کیلئے ضروری انفراسٹرکچرمثلاً پانی کی تنصیبات اور ہسپتالوں کی تباہی اور غذائی قلت کی وجہ سے لاکھوں بچے اور خواتین شدید متاثر ہیں، اور انسانی امداد کی رسائی کے بغیر جنگ بندی کے دعوے بے معنی ہیں جسے اعلیٰ سطحی وزرائے خارجہ کوآرڈینیشن اجلاس میں واضح کیا گیا۔

ماضی کی بات کی جائے تو پاکستان کا مسئلہ فلسطین پر مؤقف ہمیشہ سے اصول پر مبنی رہا ہے کہ دو ریاستی حل ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے تحت فلسطینی ریاست 1967 کی سرحدوں پر قائم ہو اور بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے لیکن موجودہ حالات میں، جہاں 2 سال سے جاری اسرائیلی جارحیت نے امن کے امکانات کو دھندلا دیا ہے اور سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ پر حملے کیوں جاری ہیں اور امریکا جیسی سپر طاقت اسے روکنے میں کیوں ناکام ہے؟

اس کا جواب امریکی کانگریس پر 1951ء سے بطور امریکن زایونسٹ کمیٹی فار پبلک افیئرز قائم اسرائیلی لابی کے گہرے اثر و رسوخ میں ہے جس کا نام اب امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی ہے اور جو فلسطین مخالف پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے مگر حالیہ مہینوں میں ڈیموکریٹس میں اس کی مخالفت بڑھ رہی ہے، جہاں کئی ارکان نے رواں سال کے دوران ہی اسرائیلی لابی کی فنڈنگ واپس کر دی ۔

دوسری جانب کئی دہائیوں سے جاری امریکی خارجہ پالیسی اسرائیل کا ساتھ دیتی نظر آتی ہے تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی غزہ جنگ بندی میں دلچسپی اور اس کے نفاذ کیلئے عملی اقدامات اٹھانے سے یہ واضح ہوا کہ جلد یا بدیر غزہ میں جنگ بندی ، قیامِ امن کی آس اور امید کی کرن نمودار ہوئی ہے۔ نتیجتاً خون کی ندیاں بہانے کا سلسلہ رک چکا ہے اور وقتی طور پر اسرائیلی حملوں سے تباہ حال غزہ میں یہ قیامِ امن کی جانب گامزن ہونے کا قابلِ قدر راستہ ثابت ہوسکتا ہے۔

Related Posts