نیویارک کے میئر ظہران ممدانی شیعہ مسلمان! پاکستان سے کیا تعلق؟ حیران کن انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

Zohran Mamdani: Muslim, yes but also Shia Muslim
ONLINE

نیویارک کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی کے بارے میں عام طور پر یہی جانا جاتا ہے کہ وہ ایک مسلمان اور تارکِ وطن پس منظر رکھنے والے رہنما ہیں مگر بہت کم لوگ یہ حقیقت جانتے ہیں کہ ان کا تعلق اہل تشیع مسلک ہے، یہ شناخت ان کے نظریات، فکر اور عوامی جدوجہد کو ایک گہری جہت فراہم کرتی ہے۔

شیعہ مکتبِ فکر، خصوصاً اثنا عشری عقیدہ، عدل، مساوات اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے پر گہرا زور دیتا ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جو ممدانی کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں نمایاں طور پر جھلکتی ہیں۔

ظہران ممدانی کے والد محمود ممدانی معروف علمی و فکری شخصیت ہیں جن کا کام شناخت اور سیاست کے موضوعات پر مبنی ہے۔ ان کا خاندانی پس منظر ہندوستانی نژاد مشرقی افریقہ کے تارکین وطن سے جڑا ہے جس نے ان کے فکری سفر اور نظریاتی پہچان کو گہرے انداز میں متاثر کیا۔

یہ خاندان خوجہ برادری سے تعلق رکھتا ہے، جو زیادہ تر شیعہ مذہب اختیار کرنے والوں پر مشتمل ہے۔ خوجہ کمیونٹی کے افراد اثنا عشری عقیدہ رکھتے ہیں یعنی وہ بارہ ائمہ پر ایمان رکھتے ہیں ۔

خوجہ برادری تاریخی طور پر آغا خان کو امام کے طور پر مانتی رہی ہے۔ ان کے مذہبی اجتماعات میں گجراتی، کچھی اور اردو کے ساتھ ساتھ عربی زبان بھی استعمال ہوتی ہے۔

ان کی مذہبی و سماجی تنظیمیں اس تاریخی سفر کی نمائندگی کرتی ہیں جو انہوں نے ہندو مت سے اسماعیلی شیعہ عقائد اور پھر انیسویں صدی میں اثنا عشری عقیدہ اختیار کرنے تک طے کیا۔

وقت کے ساتھ خوجہ اثنا عشری مسلمان دنیا بھر کی دیگر اثنا عشری برادریوں کی طرح مذہبی رہنماؤں کی پیروی کرتے ہیں مگر اپنی نسلی اور ثقافتی شناخت کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی اکثریت کا تعلق گجرات اور سندھ کے علاقوں سے ہے۔

ظہران ممدانی کمپالا، یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں نیویارک منتقل ہوگئے۔ انہوں نے اپنی مذہبی شناخت پر کھل کر بات کی ہے اور کہا ہے میں ایک شیعہ مسلمان ہوں، لیکن میری پرورش ایک بین المذاہب خاندان میں ہوئی ہے۔

ان کی والدہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہیں جس کے باعث ان کی پرورش ایک ہم آہنگ مذہبی ماحول میں ہوئی۔ ظہران ممدانی اپنے مذہبی عقائد کو اپنی ثقافتی اور ذاتی شناخت کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔

ظہران ممدانی کے مواقع پر اردو میں بھی تقریر کرچکے ہیں جس کی وجہ سے بیشتر لوگ ان کا تعلق پاکستان سے بھی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم ظہران ممدانی کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Related Posts