حکومت نے موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران 2.1 کھرب روپے (جی ڈی پی کا 1.6 فیصد) کا بجٹ سرپلس حاصل کیا ہے۔
وزارت خزانہ کی جاری کردہ وفاقی اور صوبائی مالیاتی کارکردگی کے مجموعی اعداد و شمار کے مطابق کل آمدنی 6.2 کھرب روپے (جی ڈی پی کا 4.8 فیصد) رہی، جبکہ کل اخراجات 4.1 کھرب روپے (جی ڈی پی کا 3.1 فیصد) تھے، جس کے نتیجے میں 2.1 کھرب روپے کا بجٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح بنیادی توازن (پرائمری بیلنس) بھی 3.5 کھرب روپے (جی ڈی پی کا 2.7 فیصد) کے سرپلس کے ساتھ مثبت رہا۔
وفاقی آمدنی 6.1 کھرب روپے رہی، جس میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 2.88 کھرب روپے اور نان ٹیکس آمدنی 3.046 کھرب روپے شامل ہے۔ نان ٹیکس آمدنی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع، منافع بخش اداروں کے ڈیویڈنڈز، مارک اپس، دفاعی وصولیاں، پیٹرولیم و گیس لیویز اور دیگر ذرائع شامل ہیں۔
کل وفاقی اخراجات 4.047 کھرب روپے رہے جن میں 1.38 کھرب روپے سود کی ادائیگیوں پر صرف ہوئے، جب کہ باقی رقم پنشنز، سول انتظامیہ، دفاع، سبسڈیز اور گرانٹس پر خرچ کی گئی۔
صوبائی حکومتوں نے مجموعی طور پر 781 ارب روپے کا سرپلس ظاہر کیا، جن کے اخراجات 1.44 کھرب روپے اور آمدنی 2.22 کھرب روپے رہی۔ پنجاب نے سب سے زیادہ 441 ارب روپے کا سرپلس حاصل کیا، جس کی آمدنی 1.021 کھرب روپے اور اخراجات 579.8 ارب روپے رہے۔
یہ مضبوط مالی کارکردگی بہتر آمدنی کے حصول اور اخراجات پر مؤثر قابو کی عکاسی کرتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








