حکومت نے گوشت کی برآمدات کے لیے 20 کروڑ ڈالر (200 ملین ڈالر) کا ہدف مقرر کیا ہے اور ورکنگ گروپ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر حتمی رپورٹ جمع کرائے۔
قومی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت ملائیشیا میٹ ایکسپورٹ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین اور وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
اجلاس میں ملائیشیا کو گوشت کی برآمد کی حکمتِ عملی، لاگت اور مسابقت پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ بھینس اور گائے کے گوشت کی قیمتوں اور سپلائی چین سے متعلق مسائل کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جام کمال خان نے کہا کہ قیمتوں کا موازنہ بھارت سے کیا جائے تاکہ مسابقت برقرار رہے۔ رانا تنویر حسین نے زور دیا کہ فارم سے لے کر ذبح خانوں تک معیار اور وزن کے تقاضوں کو یقینی بنایا جائے۔
مزید یہ ہدایت کی گئی کہ 14 سے 18 ماہ کی عمر کے بھینسے برآمد کے لیے منتخب کیے جائیں۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ گوشت کی برآمدات میں نجی شعبے کی شمولیت بھی ضروری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








