ملک بھر میں گزشتہ کئی روز سے 27ویں آئینی ترمیم پر شدت سے بحث و تمحیص جاری ہے جس کا بل سینیٹ نے منظور کرلیا گیا تاہم قومی اسمبلی میں گزشتہ روز کی ہنگامہ آرائی کے بعد آج پیش کیا جائے گا۔
ستائیسویں آئینی ترمیم کا بل سپریم کورٹ کی ذمہ داریوں کو کم کرتے ہوئے ایک نئی وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) قائم کرنے، فوج کے اعلیٰ افسران کو لائف ٹائم استثنیٰ دینے اور آرمی چیف کو نئی پوسٹ چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) دینے جیسے اقدامات پر مشتمل ہے۔
سب سے بڑی وجہ جو 27ویں آئینی ترمیم کو متنازعہ بنارہی ہے وہ یہ ہے کہ بظاہر حکومت اسے جلد بازی میں منظور کروا رہی ہے جبکہ وزیراعظم ملک سے باہر ہیں اپوزیشن رہنما اور پی ٹی آئی کے موجودہ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس اقدام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
گوہر علی خان نے سینیٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسے باکو ترمیم کہتے ہیں کیونکہ جب یہ ترمیم منظور کرائی جارہی تھی اس وقت وزیراعظم آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں تھے۔
27ویں ترمیم میں صدر پاکستان کو تاحیات استثنیٰ فراہم کی جارہی ہے جوکہ ایک انتہائی متنازعہ طرز عمل ہوگا اور معاشرے میں یہ پیغام جائے گا کہ ریاست کا سربراہ اپنے تمام تر غیر آئینی و غیر قانونی اعمال کا جواب دہ نہیں ہے جوکہ اسلامی قوانین کے بھی مخالف ہے جس کا مفتی تقی عثمانی نے برملا اظہار بھی کیا۔
اپوزیشن لیڈروں نے اسے آئین پر حملے سے بھی تعبیر کیا جبکہ دوسری جانب سپریم کورٹ کے سینیئر جج منصور علی شاہ نے اسے عدلیہ کو کمزور کرنے کا سیاسی منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین پرخاموشی اختیارکرنا آئینی حلف کی روح کو مجروح کرے گا۔
آئین کے آرٹیکل 243 میں تبدیلی کو فوج کی بالادستی کو آئینی تحفظ دینے کا حربہ بتایا جا رہا ہے جہاں آرمی چیف کو ایئر فورس اور نیوی پر کنٹرول مل جائے گا اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔
یہ ترمیم جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ آرمی چیف کو دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس بل کے تحت آئینی عدالت قائم ہوگی اور سپریم کورٹ آئینی معاملات کی سماعت اور از خود نوٹس جیسے اہم اختیارات بھی کھو دے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








