سائنس، ڈپلومیسی اور پاکستان

تازہ ترین

تازہ ترین

ہر سال  پوری  دنیا میں سائنس ڈے منایا جاتا ہے۔ اس مرتبہ بھی مجھے سائنس ڈے کے ایک سیمینار میں اپنا مقالہ پڑھنے کا موقع ملا، اور اس دوران مجھے شدت سے احساس ہوا کہ پاکستان میں سائنس اور سفارت کاری  کے میدان میں اب تک کوئی نمایاں کام سر انجام نہیں  دیا گیا۔

سائنس اور ڈپلومیسی وہ امر ہے کہ جس کے تحت دنیا میں تحقیقی ہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے اور مختلف ممالک کی تحقیقاتی کوششوں میں شراکت حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ڈپلومیٹک چینلز کے ذریعے سائنسی تعاون کا سلسلہ جاری رہے، جس میں اگر فنڈنگ کی ضرورت ہو تو وہ  بھی ساتھ ساتھ حاصل ہوپاتی ہے۔ مگر اس کے لیے توجہ مرکوز کرنا انتہائی ضروری ہے۔

یہ بات بھی روزِروشن کی طرح عیاں ہے کہ دورِ حاضر میں جہاں بین الاقوامی سرحدیں قوموں کو تقسیم کرتی ہیں، سائنس انسانیت کو متحد کرتی ہے۔ عالمی سائنس  ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم اور تحقیق کس طرح جدت پیدا کر سکتی ہے اور مذاکرات و سائنسی آلات اور ٹولز  کے ذریعے تنازعات کے حل میں آسانی پیدا کی جا سکتی ہے۔

مثال کے طور پر  حال ہی میں استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونے والی سیز فائر کانفرنس میں پاکستان نے سائنسی طریقوں سے جیو میپنگ اور جیو فینسنگ  کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا سراغ لگایا اور افغان ٹیم کو ان مقامات  کے بارے میں معلومات، سراغ اور ثبوت  فراہم  کیے جہاں پاکستان کے خلاف سازشیں اور منصوبہ بندی کی جاتی ہے ۔ ساتھ ہی  ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو تربیت دے کر پاکستان بھیجا جاتا ہے۔ یہ سائنس کی مدد سے ہی ممکن ہو اکہ تحقیق جیو فینسنگ، گوگل میپنگ اور سیٹلائٹ آلات کے ذریعے نشاندہی کرکے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا پتہ چلایا گیا، سائنس کی مدد سے ہی یہ ممکن ہے کہ  بارڈر کراسنگ کی نگرانی اور دو ممالک کے مابین ڈائیلاگ میں ثبوت کے ساتھ شواہد پیش کرکے اپنا مؤقف سامنے رکھا اور باہمی تنازعات کو حل کیا جاسکتا ہے۔

اگر دنیا کے مشترکہ مسائل کا ذکر کیا جائے تو ماحولیاتی تبدیلیاں، اوشیانوگرافی، سمندری ماحولیاتی نظام، مضر بیماریوں کے علاج کیلئے ویکسین کی فراہمی ضروری ہے۔  سائنسدان اس تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں اور اب کینسر کے علاج کے بھی کافی قریب پہنچ چکے ہیں، جیسا کہ کورونا جیسی عالمی وبا کے علاج کیلئےبھی سائنسدانوں نے مختلف ویکسینزکی فراہمی یقینی بنائی۔ اب جینوم کے ذریعے بھی سائنسدان کینسر جیسے موذی مرض   کا علاج بھی تلاش کرنے کے بہت نزدیک ہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ جس طرح ماضی میں لاعلاج سمجھی جانے والی بیماری ٹی بی ، چیچک، خسرہ، ہیپاٹائٹس اور ہیضے کا علاج دریافت کرلیاگیا ہے، اسی طرح کینسر بھی  آگے چل کر  کوئی لاعلاج بیماری نہیں رہے گی۔  اس کیلئے ضروری ہے کہ اقوامِ عالم آپس میں  اشتراک کریں تاکہ انسانیت  مستفید ہوسکے۔

تعلیم میں جدت پسندی ہی انسانیت کو فائدہ پہنچانے کیلئے سائنسی تحقیق میں مدد دیتی ہے  اور یوں دنیا کے مختلف ممالک اور اقوام  ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے تعمیر و ترقی کے راستے پر گامزن ہوسکتی ہیں۔ سفارت کاری اور سائنس کے ذریعے  عالمی تحقیقی ہم آہنگی  کو مزید فعال بنایا جاسکتا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ دنیا میں جس انداز میں مصنوعی ذہانت کو دوام بخشا جارہا ہے، جو ممالک اس تحقیق اور ٹیکنالوجی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چلیں گے، وہ دنیا سے بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ پاکستان کو بھی چاہئے کہ وہ سائنس اور سفارت کاری کے میدان میں آگے بڑھتے ہوئے عالمی برادری کا اشتراک حاصل کرے تاکہ پاکستان کے عوام کو بھی مصنوعی ذہانت سے سستے  اور مناسب داموں میں فائدہ اٹھانے کا موقع میسر آسکے ۔

پاکستان اپنے قابل استحکام ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز ) کے حصول کیلئے اپنی تگ و دو جاری رکھے ہوئے ہے اور اس راستے میں بھی اگر سائنسی سفارت کاری کو مزید تقویت پہنچاتے ہوئے دنیا کے مختلف ممالک سے اشتراک کرکے مختلف ایس ڈی جی اہداف کا حصول ممکن بنایا جاسکتا ہے جس میں غربت میں کمی، بھوک میں کمی، صحت اور تعلیم، نکاسی آب کے معاملات شامل ہیں۔

اس بات کا بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ پاکستان زراعت میں اپنے نہ صرف گردونواح کے ممالک سے پیچھے رہ گیا بلکہ دنیا میں جو تحقیقات زراعت کی پیداور کو بڑھانے کیلئے ہورہی ہیں، اس سے بھی استفادہ حاصل کرنے میں تقریباً ناکام ہی رہا اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی زرعی  پیداوار میں نہ صرف جمود پیدا ہوا ہے بلکہ  کئی اعتبار سے زرعی پیداوارمیں  تنزلی  بھی واقع ہوئی ہے۔

سائنس ڈے کے موقعے پر اس بات کا اعادہ  کیا گیا کہ ہم اپنے معروضی حالات میں ایسی تحقیقات میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک یا ایسے ممالک سے اشتراک کریں جنہوں نے زرعی تحقیقات میں ہمارے مقابلے میں کافی زیادہ سنگ میل عبور کررکھے ہیں۔

زراعت میں پیداواری طاقت کوکئی گنا بڑھایا جاسکتا ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہم سائنسی سفارت کاری کے ذریعے دنیا کے ان ممالک کے ساتھ جو ایسٹرن یا ویسٹرن یورپ کے یا چین کے ساتھ مل کر تحقیقاتی عمل میں حصہ لیں اور اپنے ملک کی زراعت کے شعبے میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔

بات یہاں ختم نہیں ہوجاتی بلکہ ہم دور حاضرسے ہم آہنگی کیلئے نوجوان نسل کو مصنوعی ذہانت یا دنیا بھر میں سائنسی تحقیق کی مدد سے جو ایجادات ہورہی ہیں، ان سےروشناس کروائیں۔ سائنٹفک ڈپلومیسی میں ہماری شراکت داری سے ہماری نوجوان نسل ایک بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہوسکتی ہے تاکہ ٹیلنٹ اکانومی میں ہماری اتنی ہی اڑان ہوسکے جتنی کہ ہم نےگزشتہ چند ماہ میں اپنی خارجہ پالیسی اور جیو پولیٹیکل حوالے سے اہمیت حاصل کی۔ اب یہ اشد ضروری ہے کہ معاشی ڈپلومیسی کو بھی دوام بخشا جائے جس میں ہم ماضی میں پیچھے رہے ہیں اور سائنسی ڈپلومیسی ، جس  سے پہلو تہی کی گئی ، پر بھی توجہ مرکوز کرتے ہوئے سائنسی و سفارتی میدانوں میں اپنی اور آئندہ نسلوں کی بھرپور ترقی یقینی بنائیں۔

وطن عزیز میں سائنس کو ترجیح دینے کا فقدان ایک تلخ حقیقت ہے، اور اس کی سب سے واضح مثال  نیشنل کمیشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جیسا مؤقر ادارہ ہے جو ملک کے مروجہ قانون پاکستان کونسل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایکٹ 2016 کے تحت وجود میں آیا اور ملک بھر میں خاص طور پر سائنس و ٹیکنالوجی کو تقویت پہنچانے کیلئے اعلیٰ ترین فیصلہ سازی کا محور سمجھا جاتا ہے۔ ستم ظریفی اور بد قسمتی یہ ہے کہ اتنے کلیدی ادارے کی میٹنگ 24سال کے طویل عرصے کے بعد بدھ کے روز منعقد کی گئی جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہمارے اکابرین بشمول وزیر اعظم پاکستان اپنی ترجیحات کی فہرست میں سائنس کا شعبہ  کمترین درجے پر  رکھتے ہیں۔ ایسے گھمبیر حالات میں پاکستان میں شعبہ سائنس و ٹیکنالوجی کا مقدر مخدوش نہ سمجھا جائے تو اور کیا سمجھا جائے؟ اور ایسے میں پاک سرزمین کے ہونہار سپوتوں کو وہ مواقع کیسے فراہم ہوسکتے ہیں جن کی بدولت اکیسویں صدی کی سائنسی تحقیق و تصنیف کو عمل میں لایا جائے؟  زندہ قومیں  نوجوانانِ ملت کی تعمیر و ترقی کیلئے سائنسی علوم کو سر فہرست رکھتی ہیں جبکہ تنزلی کے دوراہے پر چلنے والے ممالک  کے اکابرین سائنس  کو اپنی ترجیحات میں کمترین درجے پر ہی رکھتے ہیں اور اپنی سیاست کے غیر ضروری معاملات کو بھی ذاتی مفاد کے سبب مقدم سمجھتے ہیں۔

Related Posts