اطالوی صوبہ مولیزے کے ایک چھوٹے گاؤں میں پادری فادر میٹیاو نے اپنی بلی لونا کو تاریکی کے اثر میں مبتلا سمجھا کیونکہ وہ ہفتوں سے سایوں پر چیختی رہتی تھی اور رات کے وقت شور مچاتی تھی۔
دعائی مدد کی امید میں فادر میٹیاو نے بلی کے لیے ایک چھوٹا بپتسمہ ترتیب دیا جس میں حمد، موم بتیوں اور مقدس پانی کا استعمال شامل تھا۔ مقامی لوگ بھی تجسس اور حمایت کے ساتھ جمع ہوئے۔
جیسے ہی مقدس پانی کے پہلے قطرے نے لونا نامی بلی کی کھال کو چھوا، سکون ختم ہو گیا۔
بلی نے اچانک حرکت کی، گھومنے اور پنجے مارنے شروع کیے اور سیدھا فادر کے چہرے کی طرف چھلانگ لگائی۔ چرچ میں لوگوں نے چیخیں نکالیں، فادر میٹیاو کاچوغہ ہوا میں اڑ گیا اور شرکا ء میں بھگدڑ مچ گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








