کیا واقعی 28 ویں ترمیم میں کراچی الگ صوبہ! سندھ کی سیاست میں کھلبلی، حقیقت کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Controversy Over Alleged Proposal to Divide Sindh into Three Provinces
ONLINE

پاکستان میں ان دنوں آئین میں ہونیوالی ترامیم کی وجہ سے سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے، چند روز قبل 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد دسمبر 2025میں 28 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بازگشت سنائی دے رہی ہے تاہم اس ترمیم میں سب سے اہم کراچی صوبے کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

حال ہی میں ایک مبینہ ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ ویڈیو میں عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ دسمبر میں ایک آئینی ترمیم پیش کی جا سکتی ہے جس کے تحت سندھ کو تین الگ صوبوں میں تقسیم کیا جائے گا،صوبہ سندھ، صوبہ کراچی اور صوبہ مہران۔

ویڈیو میں انہوں نے شرکاء سے مخاطب ہو کر کہا کہ سندھ کی وحدت پر ہرگز سمجھوتہ نہ کیا جائے اور کسی بھی صورت میں صوبے کو تقسیم نہ ہونے دیا جائے۔

 

ان کے مطابق اگر کراچی کو الگ صوبہ بنا دیا گیا تو سندھ کے باسی محدود علاقے میں رہنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے اس دعوے کے ساتھ واضح کیا کہ یہ عمل ایک طے شدہ منصوبے کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر کچھ غیر مصدقہ پوسٹس میں تو یہاں تک دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 12 نئے صوبوں تک کے قیام پر بات ہو رہی ہے تاہم اب تک ایسی کسی بھی بڑی تبدیلی کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔

اس حوالے سے وزیر بلدیات، ہاوسنگ و ٹاؤن پلاننگ سید ناصر حسین شاہ نے واضح کیا کہ سندھ میں بلدیاتی نظام سب سے زیادہ بااختیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ ادوار میں بلدیاتی اداروں کو معطل کیا گیا تھا لیکن اب سندھ حکومت انہیں مزید بااختیار بنا رہی ہے۔ نئے صوبے کی بات ایک شوشہ ہے اور اگر نیا صوبہ بنتا بھی ہے تو اس کے لیے اسمبلیاں اور دفاتر بنانے کے عملی پہلوؤں پر بھی غور کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت بہتری کے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ کراچی کے انفراسٹرکچر پر کام جاری ہے اور وفاق سے ملنے والے چند فیصد وسائل کے باوجود حکومت شہری سہولیات بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

وزیر نے سیاسی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی نیت عوامی بہتری کی جانب ہے اور کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں لوگ صرف گھومنے کے لیے نہیں بلکہ بسنے کے لیے آتے ہیں۔

Related Posts