اٹلی نے برطانوی اخبار کی ہولناک رپورٹ میں سامنے آنے والے لرزہ خیز انکشافات کے بعد تحقیقات کا آغاز کردیا۔ ہے۔ رپورٹ کے مطابق جرمنی، برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک کے سیاح انسانوں کو جانوروں کی طرح رائفل سے شکار کرتے تھے۔
تفصیلات کے مطابق بوسنین شہر سرائیوو میں 1990 کی دہائی میں یورپی سیاحوں نے انسانوں کے خون کی ہولی کھیلی۔ برطانوی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ بوسنیائی سرب اس ہیومن سفاری کیلیے 90 ہزار ڈالرز تک رقم وصول کرتے تھے۔
یورپی شہری دورمار رائفل کی مدد سے انسانوں کو نشانہ بنا کر قتل کردیتے تھے۔ رپورٹ کے مطابق سیاحوں نے 1990 میں بوسنیا کے شہر سرائیوو میں بے دردی سے انسانوں کا قتل کیا۔اطالوی مصنف ایزیوگاوازینی کا کہنا ہے کہ امیر سیاحوں نے بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی قتل کیا۔
اطالوی مصنف کا مزید کہنا ہے کہ سربوں نے 90 ہزار ڈالرز فی کس وصول کیے اور بچوں کو مارنے کیلئے اضافی رقوم لیں۔4سالہ محاصرے کے دوران 10 ہزار سے زائد شہری قتل ہوئے۔ ایزیوگاوازینی کی 17صفحات پر مشتمل رپورٹ میلان کے اتارنی جنرل آفس میں جمع کرائی گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








