غزہ میں امن کیلئے قرارداد منظور۔۔۔ پاکستان کا کردار کیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے 17 نومبر کو امریکا کی تیار کردہ قرارداد نمبر2803رائے شماری کے ذریعے   منظور کی جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی توثیق کرتے ہوئے فلسطینی علاقے کیلئے عالمی استحکام فورس کی اجازت دی گئی، جبکہ اس قرارداد کو روس کی جانب سے ویٹو کیے جانے کا خدشہ بھی درپیش تھا تاہم حوصلہ افزا طور پر قرارداد کی مخالفت میں ایک بھی ووٹ نہیں آیا۔

 قرارداد کا مقصد دیگر معاملات کے علاوہ بورڈ آف پیس کے طور پر20نکاتی ایجنڈے میں شامل ایک عبوری انتظامی ادارے کو جائز حیثیت دیتے ہوئے غزہ میں فوج بھیجنے  والے ممالک کا اعتماد حاصل کرنا ہے ۔ پاکستان سمیت سلامتی کونسل کے 13اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ روس اور چین نے ووٹ ڈالنے سے اجتناب )obstain) کیا۔ امریکی صدر کا 20 نکاتی غزہ امن منصوبہ قرارداد کے ساتھ ہی ضمیمے کی صورت میں منسلک ہے۔قرارداد کے تحت عالمی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کے قیام کی منظوری دی گئی جو عسکری انفراسٹرکچر کو تباہ کرتے ہوئے غزہ کو غیر عسکری بنانے کیلئے  معاونت کار ثابت ہوگی ، جیسا کہ امن منصوبے میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار  نے فلسطینی عوام کے  تحفظ کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان نے قرارداد کے حق میں ووٹ اس بنیادی مقصد کے تحت  دیا تاکہ غزہ میں خونریزی روکی جائے،   عام شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، جنگ بندی کو استحکام ملے اور انسانی امداد، تعمیر نو اور اسرائیلی فوج کے مکمل  انخلا کا راستہ ہموار ہو جبکہ پاکستان نے  خواتین اور بچوں سمیت بے گناہ فلسطینیوں کی جانیں بچانے کے ساتھ ساتھ8 ممالک بشمول سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، انڈونیشیا اور ترکیہ کے مؤقف کے مطابق  ووٹ دیا جنہوں نے ستمبر میں نیو یارک ڈکلریشن کےبعد  ٹرمپ کے منصوبے کی توثیق کی تھی۔

راقم الحروف کی ذاتی رائے میں سلامتی کونسل کی اس قرارداد کا انتظار پوری دنیا کر رہی تھی جبکہ روس اور چین نے ویٹو کرنے کی بجائے ووٹنگ سے اجتناب کرنے کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ اس قرارداد میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا ذکر نہیں ، گو کہ غزہ میں امن کے قیام کا ایک ذریعہ سمجھا گیا۔واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 242 کے تحت اسرائیل کو 1967 کی جارحیت میں حاصل کیے گئے علاقوں سے نکلنا ہوگاتب ہی دو ریاستوں کا منصوبہ فعال ہوسکتا ہے  اور  مسئلہ فلسطین کا حل دونوں فریقین کے مابین متفقہ معاہدے سے ہی طے ہوسکتا ہے۔

قرارداد کے متن  کے مطابق اب شاید وہ حالات پیدا  کیے جاسکیں‘ جن کے تحت فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور ریاستی درجہ کے لیے ایک قابلِ اعتبار راستہ ہموار ہو سکے، لیکن یہ اس وقت ممکن ہوگا جب فلسطینی اتھارٹی اصلاحاتی پروگرام مکمل کرے اور غزہ کی تعمیرِ نو میں پیش رفت ہو تاہم اسرائیل نے یہ امکان رد کردیا۔ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کو اپنی کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ ’ہمارا کسی بھی علاقے میں فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کا موقف تبدیل نہیں ہوا‘۔

یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اگر نیتن یاہو غزہ امن منصوبے کے خلاف بیان بازی نہ کریں تو انہیں انتہا پسند صیہونی وزارتِ عظمیٰ پر تادیر فائز نہیں رہنے دیں گے اور حکومت سے نکال باہر کرنے کیلئے فعال بھی ہوجائیں گے، اور اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ منصوبہ پیش کیا ہے تو اسرائیل کی جانب سے اس کی خلاف ورزی کی صورت میں امریکا ، جو سلامتی کونسل میں غزہ سے متعلق اسرائیل مخالف قراردادوں کو ماضی میں بار بار ویٹو کرتا رہا ہے، اسرائیل کا ساتھ چھوڑنے اور اس کی امداد کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سے پیچھے بھی ہٹ سکتا ہے جس میں بحیرہ روم میں موجود بحری بیڑے ہٹانا بھی شامل ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب  حماس نے سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد کو فی الوقت مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلسطینیوں کے حقوق اور مطالبات پوری نہیں کرتی اور غزہ پر ایک بین الاقوامی سرپرستی مسلط کرنے کی کوشش ہے، جسے فلسطینی عوام اور مزاحمتی دھڑے قبول نہیں کرتے۔عالمی  فورس کو غزہ کے اندر دیے گئے کام، جن میں مزاحمت کو غیر مسلح کرنا بھی شامل ہے، اس فورس کی  غیر جانبداری کو ختم کر دیتے ہیں اور اسے تنازع کا حصہ بنا دیتے ہیں، جو بالآخراسرائیلی  قبضے کے حق میں جائے گا۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ غزہ کی پٹی دو سالہ لڑائی کے بعد تقریباً کھنڈر بن چکی ہے، جو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی اور ہزاروں بچوں اور خواتین سمیت 70 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے اور اگر حماس اور اسرائیل کی طرح اس قرارداد کو پاکستان جیسے ممالک بھی  مسترد کرڈالتے  تو  غزہ میں دوبارہ خونریزی شروع ہوسکتی تھی،  اس لیے مصر سمیت 8ممالک حماس سے یہ مطالبہ منوانے کیلئے متحرک ہیں اور پاکستان کو بھی ان کا ساتھ دینا ہوگا۔

یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ عالمی استحکام فورس میں شمولیت اور غزہ میں پاک فوج کی موجودگی سے ایک جانب تو اسرائیلی جارحیت تھمنے کے واضح امکانات ہیں کیونکہ پاکستان نے حال ہی میں معرکہ حق میں خود سے کئی گنا بڑی طاقت بھارت کو شکست دے کر اپنی عسکری صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے جبکہ دوسری جانب خطے کے دیگر ممالک بشمول لبنان، شام اور اردن میں پاکستان کے سفارتی ومعاشی تعلقات میں اضافہ ہوگا تاکہ پاکستان کیلئے گزشتہ کئی عشروں سے جس معاشی استحکام کی تگ و دوجاری ہے، اس کی راہ ہموار ہوسکے۔

Related Posts