بڑی بیٹی کی غیر فطری موت کا غم اذیت بن گیا! والدین نے چھوٹی بیٹی کے ہمراہ دنیا چھوڑ دی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ بھارتی میڈیا)

بھارتی شہر حیدرآباد کے آر کے نگر میں آج صبح دل دہلا دینے والا منظر دیکھنے کو ملا جہاں ایک گھر میں فیملی کے سربراہ سرینواس، ان کی بیوی جے کاشمی اور چھوٹی بیٹی شراویا کے گلے میں پھندے لگے تھے۔ چار ماہ پہلے ان کی بڑی بیٹی کاویا نے بھی خودکشی کی تھی اور اسی غم میں والدین اور انکی معصوم بچی نے بھی خودکشی کرلی۔

پولیس حکام کے مطابق سرینواس سیکیورٹی گارڈ تھے جبکہ ان کی بیوی جے کاشمی گاندھی ہاسپٹل میں لیڈی سیکیورٹی گارڈ کے فرائض سر انجام دیتی تھیں۔ حکام نے بتایا کہ چار ماہ پہلے ان کی 16 سالہ نوجوان بیٹی کاویا نے خودکشی کر لی تھی جس کے بعد سے والدین سخت اذیت میں تھے اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگئے تھے۔

حکام نے بتایا کہ نوجوان بیٹی کی خودکشی کے بعد والدین نے لوگوں سے بات چیت بند کردی تھی جبکہ کھانا پینا بھی تقریبا چھوڑ دیا تھا اور وہ اکثر اونچی آواز میں روتے اور بولتے ہمیں اپنی کاویا کے پاس جانا ہے اب ہمارا یہاں جینا حرام ہوگیا ہے۔

پولیس کے مطابق گزشتہ دو روز سے سرینواس ان کی بیوی جے کاشمی گاندھی فون بند آرہے تھے جس پر رشتے داروں نے گھر کا دروازہ توڑا اور اندر داخل ہوئے تو سامنے خوفناک منظر دیکھا، سرینواس، جے کاشمی اور ان کی چھوٹی بیٹی شراویا تینوں کے گلے میں پھندے لگے تھے۔ ننھی شراویا تو شاید یہ بھی نہ سمجھ سکی کہ اس کے ماں باپ اسے موت کی نیند سلا رہے ہیں۔

پولیس کا خیال ہے کہ بڑی بیٹی کی موت کا صدمہ ان سے برداشت نہ ہوا۔ انہوں نے سوچ سمجھ کر پہلے اپنی چھوٹی بیٹی کو موت دی اور پھر خود بھی اسی دنیا سے رخصت ہو گئے۔

اہل ملحہ ابھی تک سہمے ہوئے ہیں۔ کوئی یقین نہیں کر پا رہا کہ جو لوگ کل تک رو رہے تھے آج خود بھی اسی غم میں ہمیشہ کے لیے سو گئے۔

Related Posts