امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کا نیا 28نکاتی امن منصوبہ جسے ورکنگ ڈاکیومنٹ کا نام دیا گیا، اس کے متعدد نکات کو ناقدین روس کے حق میں قرار دیتے ہیں جس نے فروری 2022 میں یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا، جس میں یوکرین کو روسی قبضہ شدہ علاقوں کی ملکیت سے ہاتھ دھونا ہوگا اورفوجی قوت کی حد مقرر کرتے ہوئے نیٹو میں شمولیت سے بھی باز رہنا ہوگا۔
منصوبے کے مطابق کریمیا، لوہانسک اور ڈونیٹسک(Luhansk and Donetsk) سمیت وہ علاقے جنہیں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی فوج قبضہ کرنے میں ناکام رہی، ان سب کو امرِ واقعہ کے طور پر روسی علاقہ تسلیم کیا جائے گا جبکہ یوکرین کے مؤقف کے مطابق روس نے 2014 سے کریمیا پر “غیر قانونی “قبضہ کیا ہوا ہے۔یوکرین کو 100 دن کے اندر انتخابات کرانے کی بھی شرط ماننی ہو گی۔تاہم منصوبے میں یوکرین کی جامع تعمیرِ نو کا ایک خاکہ بھی شامل ہے، جس میں 100 ارب ڈالر کے منجمد روسی اثاثے ترقی اور سرمایہ کاری پر خرچ کیے جائیں گے۔
دوسری جانب یورپی یونین ممالک اس امن منصوبے پر عملدرآمد کیلئے متذبذب نظر آتے ہیں جبکہ اور ان کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے وزرائے خارجہ اجلاس میں کہا، ”کسی بھی منصوبے کے مؤثر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ یوکرینی اور یورپی اس پر متفق ہوں جبکہ ہم نے روس سے کسی بھی رعایت کا نہیں سنا۔‘‘
یہی نہیں، بلکہ امریکی صدر نے یوکرین کو خبردار کردیا کہ وہ اس امن منصوبے کو 27نومبر تک قبول کرلے، بصورتِ دیگر امریکی انٹیلی جنس اور ہتھیاروں تک رسائی سے محروم کردیا جائے گا۔یہاں راقم الحروف کا تجزیہ یہ ہے کہ یورپی ممالک حسبِ سابق شور مچائیں گے اور امریکا کے خلاف بیان بازی کرتے ہوئے یوکرین کا ساتھ دینے کیلئے شاید آخری حد تک جانے کا بھی اعلان کرڈالیں، تاہم آخر میں بات ڈونلڈ ٹرمپ کی مانی جائے گی اور توقع یہ ہے کہ آئندہ آنے والے دنوں میں جنگ زدہ، پژمردہ اور کھنڈر کا منظر پیش کرتے ہوئے یوکرین میں بھی امن کی بہاریں لوٹ آئیں گی۔
اس تنازعے کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ سرد جنگ کے اختتام (1991) پر، امریکا اور مغربی ممالک نے روس کو یہ عندیہ دیا تھا کہ نیٹو سابقہ سوویت یونین کی ریاستوں کو اپنی رکنیت میں شامل نہیں کرے گا۔ اس کے برعکس، امریکا کی حمایت سے نیٹو کی توسیع ہوئی، اور یکے بعد دیگرے چیچ ری پبلک، ہنگری، پولینڈ (1999)، بلغاریہ، رومانیہ، سلوواکیہ، سلووینیا، ایسٹونیا، لتھوانیا، لیٹویا (2004) اور مزید ممالک شامل ہوئے۔ ہر مرحلے پر جب نیٹو نے ان ریاستوں کو اپنے اندر شامل کیا، روس کے لیے خطرے کی گھنٹی ہر بار پہلے سے زیادہ آواز کے ساتھ بجتی رہی۔ روس کبھی نہیں چاہتا تھا کہ نیٹو اپنے مہلک ہتھیاروں کو ان ممالک میں بتدریج نصب کرتا رہے۔۔ یعنی نہ یوکرین کی وہ سرزمین یوکرین کے پاس رہے جو کہ روس کی سرحدوں سے ملی ہوئی ہو اور نیٹو کے مہلک ہتھیار روس کی دہلیز پر نصب نہ ہوسکیں۔آج پیوٹن اپنی قوتِ ارادی اور قومی سلامتی کی حفاظت میں تقریباً کامیا ب ہوچکا اور امریکا اور یورپ پر یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ یوکرینی صدر باوجود تمام امداد کے، روس سے اپنے ریاستی علاقوں کو نہیں بچا سکیں گے اور پورے کا پورا ملک ہی کھو دینے کے دہانے پر پہنچ گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی بصیرت کے مطابق پیوٹن کو 28نکاتی منصوبے پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اب یوکرین کا مسئلہ آنے والے چند ہفتوں میں حل کی جانب گامزن ہوتا نظر آرہا ہے۔
یہ بات پوری دنیا پر عیاں ہوچکی، کہ ڈونلڈ ٹرمپ جو کہ پہلے ہی 8 جنگوں کا اختتام کرانے کا سہرا اپنے سر باندھ چکے ہیں اور اب یوکرین جیسے پیچیدہ معاملے کے حل کے بعد یقیناً مزید پذیرائی کے مستحق ہوں گے ۔
لگتا یوں ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کا سب سے مہلک تنازعہ جوکہ 2جوہری ممالک کے درمیان دنیا کی گردن پر تلوار کی طرح لٹک رہا ہے، اور جس کا ذکر درجنوں بار ٹرمپ نے یہ کہہ کر کیا کہ اگر وہ بھارت اور پاکستان کی جنگ نہ رکواتے تو یہ محدود جنگ ایک نیو کلیئر جنگ کی شکل اختیار کرسکتی تھی۔ ٹرمپ نے یہاں تک برملا کہہ دیا کہ ایسی صورت میں 7روز کے اندر اندر جوہری دھول اور ذرات لاس اینجلس تک پہنچ جاتے۔
سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق بھارت۔پاکستان کے درمیان ایک محدود نیوکلیئر جنگ بھی تباہ کن ہوگی۔ چند چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے پیدا ہونے والا جوہری دھواں صرف دو ہفتوں میں پوری زمین کو ڈھانپ لے گا اور کئی سالوں تک سٹریٹوسفیئر(سطح زمین سے 12 سے 50کلومیٹر دور کی فضائی سطح ) میں رہے گا۔ اس سے دنیا بھر میں مکئی، گندم اور چاول کی پیداوار 10 سے 40 فیصد تک کم ہو جائے گی۔ چونکہ عالمی خوراک کے ذخائر صرف 60 دن کے لیے کافی ہیں، اس لیے بتدریج ایک سے دو ارب افراد بھوک سے مر سکتے ہیں۔ مکمل پیمانے کی نیوکلیئر جنگ کی صورت میں تو نیوکلیئر ونٹر آ جائے گا اور زمین کی 90 فیصد آبادی ختم ہو سکتی ہے۔ کوئی ملک محفوظ نہیں رہے گا، چاہے وہ جنگ میں شریک نہ ہو، چاہے اس کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں، اور چاہے وہ دھماکوں سے ہزاروں میل دور ہو، بلکہ یوں کہہ لیں کہ دنیا کے بیشتر ممالک کے رہنماؤں ، دانشمندوں، سائنسدانوں اور فہم و فراست رکھنے والے ذہنوں کو یہ احسا س ہے کہ پاک بھارت جنگ کی صورت میں جوہری تلوار جو ان کی گردنوں پر لٹکتی رہے گی تاوقتیکہ یہ تنازعہ ختم نہ ہوجائے اور راقم الحروف انہی حقائق اور منطق کی روشنی میں یہ تجزیہ کرنےکی سمت مائل ہے کہ اب ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اندازاور دنیا کو درپیش خطرات کے سبب مستقبل قریب میں تمام تر توانائی کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے صرف کی جائے گی، یعنی بھارت کی مسلسل ضد کہ کشمیر دو طرفہ معاملہ ہے، اب دنیا اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ یہ دو طرفہ معاملہ اقوامِ عالم کیلئے موت وزیست کا مسئلہ بن سکتا ہے۔ لہٰذا کشمیر کا مسئلہ اب کثیر جہتی منصوبے کے تحت حل ہونے کی سمت بڑھ رہا ہے۔ اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہ ہوگی کہ آنے والے وقت میں غزہ اور یوکرین کیلئے وضع کردہ نکات کی طرح مسئلہ کشمیر کیلئے مودی سرکار کو بھی مجبور کیا جائے کہ وہ چند نکات پر محیط منصوبہ پیش ہونے کے ساتھ ہی کشمیر کے حق خود ارادیت کی جانب گامزن ہونے میں اپنی بقا جانے۔ اسی میں جوہری خطرات سے دنیا کی بقا بھی مضمر ہے اور ایسا ہونے پر بھارت اور پاکستان کے عوام کی زندگیوں میں بھی بھلائی ایک قدرتی امر ثابت ہوگی اور یہ دو ممالک جن میں ہر قسم کی صلاحیتیں اور ٹیلنٹ موجود ہے، وہ دنیا میں ترقی و کامرانی کی جانب گامزن ہونا شروع ہوسکتے ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کا نام تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہوجائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں