دنیا بھر کی کرپٹو مارکیٹ میں دو بڑے ڈیجیٹل اثاثوں بٹ کوائن اور ایتھیریئم کے درمیان جاری برتری کی جنگ ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں ماہرین اب ایتھیریئم کو محض متبادل نہیں بلکہ مستقبل کے ڈیجیٹل معاشی نظام کی مضبوط بنیاد قرار دے رہے ہیں۔
کرپٹو مارکیٹ کے معروف تجزیہ کار کے مطابق 2008 میں بٹ کوائن کی ایجاد نے ڈیجیٹل کرنسی کی بنیاد رکھی جبکہ 2015 میں لانچ ہونے والا ایتھیریئم محض کرنسی نہیں بلکہ پروگرام ایبل منی کا عالمی نیٹ ورک بن کر ابھرا۔
آج دس برس بعد یہ مقابلہ نہ صرف تیز ہو چکا ہے بلکہ ایتھیریئم نے اپنی تکنیکی لچک، اسمارٹ کنٹریکٹس اور وسیع پیمانے پر اپنانے کی وجہ سے ڈی فائی، این ایف ٹی اور مختلف بلاک چین ماڈلز کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
اسمارٹ کنٹریکٹس نے ایتھیریئم کو وہ طاقت دی ہے جو بٹ کوائن میں نہیں پائی جاتی۔ اس نیٹ ورک پر لاکھوں ٹوکنز تیار کیے جا چکے ہیں۔
ان خصوصیات نے ڈیولپرز کو پورا بلاک چین بنائے بغیر اپنے ٹوکن اور پروجیکٹس بنانے کی سہولت فراہم کی، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایتھیریئم آج بھی کرپٹو ڈیولپمنٹ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔
ایتھیریئم کی شفافیت اور اس کے بانیوں کی شناخت نے بھی اسے اعتماد فراہم کیا۔ 2017 سے 2020 کے دوران نیٹ ورک میں کئی بڑے اپ گریڈز کیے گئے جب کہ 2022 میں مرج کے بعد ایتھیریئم نے پروف آف ورک سے پروف آف اسٹیک کا سفر مکمل کیا جس کے بعد یہ نیٹ ورک تیزی سے بہتر اسکیلنگ کی طرف بڑھا۔
سال 2025 میں جہاں بٹ کوائن کی مارکیٹ ویلیو 1.34 ٹریلین ڈالر تک پہنچی، وہیں ایتھیریئم کی یومیہ ٹرانزیکشن ویلیو نے مسلسل چوتھی سہ ماہی میں بٹ کوائن کو پیچھے چھوڑ دیا۔
اسی سال اگست میں ایتھ نے پہلی بار 4000 ڈالر کی نفسیاتی حد عبور کی، جسے ماہرین آنے والی مزید تیزی کی علامت قرار دیتے ہیں۔
کرپٹو ماہر ریان سین ایڈمز کے مطابق ایتھیریئم مستقبل میں 17000 ڈالر فی ٹوکن تک جا سکتا ہے جس کی بنیاد ایتھ کا ییلڈ پیدا کرنے والا ڈیجیٹل گولڈ بن جانا ہے۔
بڑے فنڈز اور عالمی ادارے اسے ڈیجیٹل بانڈ، ڈیجیٹل سلور یا ڈیجیٹل آئل جیسی تشبیہیں دیتے ہیں کیونکہ اس کی افادیت مالیات سے باہر ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر، ڈیولپمنٹ اور انفراسٹرکچر تک پھیلی ہوئی ہے۔
دنیا کی 69 بڑی کمپنیاں اپنے خزانے میں 4.1 ملین سے زائد ایتھ رکھتی ہیں جو اس بڑھتی ہوئی اپنائیت کا واضح ثبوت ہے۔
ماہرین کے مطابق ایتھیریئم آج محض ٹرانزیکشن کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ ایک وسیع ڈیجیٹل معاشی کائنات کی بنیاد بن چکا ہے جس کے مستقبل پر کرپٹو مارکیٹ کی نظریں مرکوز ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








