اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) نے ایک ایسا اعلان کردیا جو ہر گیس صارف کے بجٹ کو متاثر کرے گا۔ پہلے میڈیا میں یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ گیس کی قیمتیں کم ہونے والی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اوگرا نے نہ صرف کمی کی منظوری واپس لے دی بلکہ قیمتوں میں اہم اضافہ بھی کر دیا ہے۔
نئے فیصلے کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) کے لیے گیس کی قیمت میں 7.14 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے باعث ایس ایس جی سی کے صارفین کو فی ایم ایم بی ٹی یو 118 روپے 47 پیسے زیادہ ادا کرنے ہوں گے اور نئے ریٹس کے بعد ایس ایس جی سی کا ٹیرف 1,777 روپے 02 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گیا ہے۔
سوئی نادرن گیس پائپ لائنز (SNGPL) کے لیے قیمتوں میں 4.89 فیصد اضافہ منظور کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں صارفین پر فی ایم ایم بی ٹی یو 86 روپے 30 پیسے کا اضافی بوجھ پڑے گا اور نیا ٹیرف 1,852 روپے 80 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیا گیا ہے۔
اوگرا نے یہ بھی بتایا کہ پہلے کمپنیوں کے مالی خسارے پورے کرنے کے لیے 60 ارب 88 کروڑ روپے کے ایڈجسٹمنٹ کی منظوری دے چکی ہے۔
ابتدائی دعوے کے مطابق اوگرا نے پہلے گیس کی قیمتوں میں اوسطاً 8 فیصد تک کمی کی منظوری دی تھی لیکن اس کے نفاذ کے لیے وفاقی حکومت کی اجازت ضروری تھی تاہم گیس کمپنیوں نے قیمتوں میں کافی اضافہ کی درخواستیں دی تھیں جس میں ایس ایس جی سی نے 22 فیصد اور ایس این جی پی ایل نے 28.62 فیصد اضافہ مانگا تھا۔
اوگرا کے جاری بیان کے مطابق اس اضافے کا مقصد گیس کمپنیوں کی ریونیو ضروریات کو پورا کرنا اور مالی خسارے کو ختم کرنا ہے۔ اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایس ایس جی سی کے لیے ابتدائی ٹیرف 1,549.41 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیا گیا تھا جبکہ SNGPL کے لیے یہ 1,804.08 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تھا تاہم اب اوگرا نے ان میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








