اسلام آباد میں ایک نوجوان لڑکی پر کیے گئے بہیمانہ تشدد، اس کے بال کاٹنے، اسے بلیک میل کرنے اور اس کی ویڈیو وائرل ہونے کے دل خراش واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
متاثرہ لڑکی ایمان کا تازہ ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں اس نے مکمل واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ملزمان کے خلاف کارروائی اور انصاف کی دہائی دی ہے۔
ایمان کے مطابق یہ واقعہ تقریباً ڈیڑھ مہینہ قبل پیش آیا، جب ثنا نامی لڑکی اور ارمان نام کے لڑکے نے اسے زبردستی اپنے ساتھ لے جا کر مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا۔
ایمان نے اپنے بیان میں بتایا کہ ثنا اور ارمان پہلے اسے کرسچن کالونی لے کر گئے، جہاں ایک فلیٹ میں داخل ہوتے ہی اسے شدید مارا پیٹا گیا، اس کے بال کاٹے گئے اور اسے ذہنی و جسمانی اذیت دی گئی۔
متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ فلیٹ میں ارمان کے ساتھ درانی، مٹھو اور ایک نامعلوم شخص بھی موجود تھا، جنہوں نے اس پر تشدد کیا اور اسے دھمکیاں دیں۔
اسلام آباد میں نوجوان لڑکی پر تشدد اور بال کاٹنے کے افسوسناک واقعہ کے بعد متاثرہ لڑکی کاویڈیو بیان سامنے آگیا ۔۔ ایمان نام کی لڑکی سے ڈیڑھ مہینے پہلے واقعہ پیش ایا ہے ثنا نام کی لڑکی اور ارمان نام کا لڑکا مجھے زبردستی اپنے فلیٹ پر لیکر گئے pic.twitter.com/Km01nM9bOp
— صحرانورد (@Aadiiroy2) November 24, 2025
ایمان کے مطابق تشدد کے بعد اسے بحریہ ٹاؤن کے ایک سیلون میں بھی لے جایا گیا، جہاں اسے اسلحے کے زور پر مزید ہراساں اور خوفزدہ کیا گیا۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایمان سامنے آئی اور اس نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ صرف انصاف چاہتی ہے اور چاہتی ہے کہ اس پر ظلم کرنے والوں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مساج سینٹر کے مالکان نے بااثر افراد کے ساتھ مل کر لڑکی کو بلیک میل کیا اور اسے مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا۔
واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایس ایس پی آپریشنز نے فوری ایکشن لیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے اور تمام ذمہ داروں کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔
اسلام آباد میں تھانہ لوئی بھیر کے علاقے میں حوا کی ایک بیٹی پر تشدد کا سنگین واقعہ
مساج سینٹر پر لڑکی پر مبینہ تشدد اور بلیک میلنگ کا انکشاف
ایک مساج سینٹر کے مالکان اور بااثر افراد نے انوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر گاہکوں سے جسمانی تعلقات قائم کرنے سے انکار پر تشدد کا… pic.twitter.com/uqYZjNEtyZ
— Israr Ahmed Rajpoot (@ia_rajpoot) November 24, 2025
پولیس کے مطابق پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ گرفتار ہونے والی ایک خاتون اسی علاقے کے ایک بیوٹی سیلون میں ملازمہ تھی۔
پولیس نے سیلون کے تمام ملازمین کو بھی حراست میں لے لیا ہے جبکہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور واقعے کے پس منظر، ویڈیو کے وائرل ہونے اور ممکنہ بلیک میلنگ کے زاویوں کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








