سوشل میڈیا پر ایک متنازع دعویٰ گردش کر رہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب دو امریکی نیشنل گارڈ فوجیوں پر فائرنگ کے پیچھے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کا ہاتھ ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس میں الزام لگایا جا رہا ہے کہ حملہ آور ایک ایسے خفیہ دستے کا رکن تھا جو سی آئی اے کی پشت پناہی میں کام کرتا تھا اور یہ حملہ ایک منصوبہ بند دہشتگردانہ کارروائی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام باتیں ابھی تک غیر مصدقہ اور افواہوں پر مبنی ہیں۔ سرکاری اداروں کی طرف سے ایسی کسی سازش کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔آئیے اس واقعے کی تفصیلات کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
URGENT Is the CIA behind the murder of two US soldiers near the White House? Did they direct/orchestrate this act of war? Take a close look at the gunman’s ID card below – acc to this he was a member of the Qandahar Strike Force, a CIA-backed paramilitary unit. He’s one of theirs pic.twitter.com/anKD3JrkQS
— Lara Logan (@laralogan) November 27, 2025
واقعہ کیا ہوا؟
26 نومبر 2025 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب فرگٹ اسکوئیر میٹرو اسٹیشن (17ویں اور آئی سٹریٹ پر) ایک اچانک حملہ ہوا۔ ویسٹ ورجینیا نیشنل گارڈ کے دو فوجی گشت پر تھے جب ایک حملہ آور نے ان پر گولی چلائی۔ دونوں فوجی شدید زخمی ہو گئے اور ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ یہ حملہ اچانک اور دھوکے سے کیا گیا جسے ممکنہ دہشت گردی کا واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔
حملہ آور کون ہے؟
حکام کے مطابق ملزم کا نام رحمان اللہ لکنوال (یا لکامال) ہے جو افغانستان کا شہری ہے۔ وہ 2021 میں امریکہ آیا تھا جہاں امریکی فوج کی مدد کرنے والے افغانوں کے لیے خصوصی ویزا پروگرام تھا تاہم اس کا ویزا ختم ہو چکا تھا اور وہ غیر قانونی طور پر ملک میں موجود تھا۔ حملے کے بعد نیشنل گارڈ کے دیگر ارکان یا پولیس نے جواب دیا اور ملزم پر گولی چلائی جس سے وہ زخمی ہو گیا اور گرفتار کر لیا گیا۔ اب وہ حراست میں ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
قندھار سٹرائیک فورس کا دعویٰ کیا ہے؟
سوشل میڈیا پر کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ملزم کے پاس ایک آئی ڈی کارڈ ملا ہے جو قندھار سٹرائیک فورس نامی دستے کا ہے۔ یہ مبینہ دستہ سی آئی اے کی مدد سے چلنے والا نیم فوجی گروپ بتایا جا رہا ہے۔
سرکاری حقائق کیا کہتے ہیں؟
ایف بی آئی اس کی تحقیقات کی سربراہی کر رہا ہے اور میٹرو پولیٹن پولیس ڈپارٹمنٹ اور ہوم لینڈ سیکورٹی ڈپارٹمنٹ بھی شامل ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق، ملزم نے افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ کام کیا تھا لیکن اس کی ویزا کی میعاد ختم ہونے کی وجہ سے اسے غیر قانونی سمجھا جا رہا ہے تاہم سی آئی اے یا کسی امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کی براہ راست شمولیت کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ملی۔ ایف بی آئی نے واضح کیا ہے کہ یہ افواہیں بے بنیاد ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔
حملے کی وجہ کیا تھی؟
حملے کی اصل وجہ ابھی واضح نہیں ہوئی۔ ملزم کی گاڑی سے ایک دستاویز ملی ہے جو امریکی سامراجیت کے خلاف غصے سے بھری ہوئی تھی، جیسے کوئی منشور۔ ملزم ابھی تک حکام سے تعاون نہیں کر رہا اس لیے مزید تفصیلات سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
قندھار اسٹرائیک فورس کیا ہے؟
قندھار اسٹرائیک فورس (کے ایس ایف) جسے این ڈی ایس 03 بھی کہا جاتا ہے، افغانستان کے جنوبی علاقوں میں، خاص طور پر قندھار، ہلمند اور اروزگان صوبوں میں کام کرنے والا ایک متنازع نیم فوجی گروپ تھا۔ یہ دستہ سی آئی اے کی مالی اور تربیتی مدد سے چلتا تھا جس میں افغان فوج کے منتخب ارکان کو امریکی خصوصی دستوں کی طرف سے تربیت دی جاتی تھی۔
اس کا ہیڈکوارٹر قندھار شہر کے جنوب مشرق میں کیمپ جیکو (سابق القاعدہ بیس اور ملا عمر کا گھر) میں تھا۔ اس کا بنیادی کام طالبان اور القاعدہ کے ٹارگٹس پر اچانک چھاپے مارنا، انٹیلی جنس اکٹھا کرنا اور کاؤنٹر ٹیرر ازم آپریشنز تھا، جو اکثر امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کی مدد سے کیے جاتے تھے تاہم یہ گروپ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جیسے گاؤں والوں کو زبردستی نکالنا، تشدد اور ممکنہ جنگی جرائم کے الزامات کی وجہ سے بدنام تھا۔
2021 میں امریکی انخلا کے بعد اس جیسے دستوں کو ختم کردیا گیا۔ رحمان اللہ لکنوال کے اس دستے سے مبینہ تعلق نے سوشل میڈیا پر افواہوں کو ہوا دی ہے لیکن یہ بھی تصدیق شدہ نہیں کہ یہ حملہ اس کی وجہ سے تھا یہ ممکن ہے کہ فلم “کندھار” (2023) جیسی فکشنل کہانیوں سے متاثر ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








