سندھ کی حفاطت کیلئے ہندو اور سکھ سر بکف! بھارتی وزیر دفاع کا بیان مودی کے گلے پڑ گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان کے معاشی حب کراچی میں ہندو برادری نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ متنازع بیان کے خلاف احتجاج کیا۔ کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھائے اور نعرے بازی کی جس میں انہوں نے بیان کی سخت مذمت کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ بیان پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف خطرناک ہے اور خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ احتجاج میں ہندو کمیونٹی کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور پلے کارڈز پر نعرے درج تھے، جیسے سندھ پاکستان کا لازمی حصہ ہے، بھارتی جارحیت مسترد اور ہندوؤں کی حفاظت کی بجائے توسیع کی باتیں بند کرو۔

مقامی ہندو رہنما نے کہا کہ پاکستان میں رہنے والے ہندو پاکستان کے وفادار شہری ہیں اور بھارتی بیان ان کی وفاداری پر سوال اٹھاتا ہے۔ احتجاج پرامن رہا اور پولیس نے سیکورٹی کے لیے اضافی نفری تعینات کی تھی۔ مظاہرین نے سوشل میڈیا پر بھی ویڈیوز شئیر کیں جن میں وہ نعرے لگا رہے تھے کہ سندھ ہمارا ہے، بھارت واپس جاؤ۔

دوسری جانب سکھ برادری نے بھی بھارتی وزیر دفاع کے بیان کے بعد پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔ سکھ تنظیموں نے کہا کہ وہ بھارتی جبر و استبداد کا حصہ نہیں بن سکتے اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان کے دفاع میں کھڑے ہوں گے۔

عالمی سکھ تنظیم سکھ فار جسٹس نے پاکستانی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی مقبوضہ پنجاب کے سکھ رضاکاروں کو بھرتی کرکے سندھ کے دفاع میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے۔

بھارتی وزیر دفاع کا بیان

راج ناتھ سنگھ نے 23 نومبر 2025 کو نئی دہلی میں سندھی سماج سمّیلن کے دوران کہا کہ سندھ کی زمین بھارت کا حصہ نہیں لیکن تہذیبی طور پر ہمیشہ بھارت سے جڑا رہے گا۔ سرحدیں بدل سکتی ہیں اور ممکن ہے مستقبل میں سندھ دوبارہ بھارت کا حصہ بن جائے۔

سنگھ نے کہا کہ سندھ کے ہندو، خاص طور پر اڈوانی کے نسل کے افراد، تقسیم کے بعد بھی بھارت سے الگ ہونے کو قبول نہیں کرتے۔ انہوں نے دریائے سندھ کی مقدس حیثیت کا ذکر کیا اور بیان دیا کہ یہ اقدام پڑوسی ممالک میں اقلیتوں کی مدد کے لیے ضروری ہے۔

پاکستان کی شدید ردعمل

پاکستان کی وزارت خارجہ نے 24 نومبر کو اس بیان کو خطرناک اور توسیع پسندانہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی۔ وزارت نے کہا کہ یہ بیان بین الاقوامی قوانین اور ریاستوں کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔

سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری نے بھی اس بیان کو علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے اسے جارحیت کی دعوت قرار دیا جبکہ بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ بیان مئی 2025 میں مقبوضہ کشمیر میں ہندو سیاحوں پر حملے کے تناظر میں دیکھا جائے۔

Related Posts