کراچی: بین الاقوامی اور حکومتی پابندیوں کے باوجود پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی سرمایہ کاری تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کا حجم مختلف عالمی رپورٹس کے مطابق 20 سے 25 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
چین اینالیسس اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں کرپٹو سرگرمی کے لحاظ سے آٹھویں نمبر پر موجود ہے جو واضح کرتا ہے کہ حکومتی پالیسی اور زمینی حقائق میں شدید تضاد موجود ہے۔
یہی تضاد اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے منعقدہ ڈائیلاگ آن دی اکانومی کانفرنس میں زیرِ بحث آیا، جہاں پاکستان میں کرپٹو کرنسی کا مستقبل کے عنوان سے ایک اہم سیشن ہوا۔
سیشن کی سربراہی اسکوائر پوائنٹ ٹریڈنگ گروپ کے سی ای او ڈاکٹر اسد ثمر نے کی جنہوں نے کرپٹو کرنسی کے بنیادی اصول، اس کی تکنیکی ارتقا اور پاکستانی تناظر میں درپیش مشکلات اور مواقع پر تفصیل سے گفتگو کی۔
گفتگو کے آغاز میں ڈاکٹر اسد نے کرپٹو کرنسی کی ابتدا سے متعلق بتایا کہ اس کا بنیادی مقصد ایسا مالی نظام تشکیل دینا تھا جس میں افراد کو ادائیگیوں کے لیے بینکوں یا دیگر مرکزی اداروں پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
اس مقصد کے لیے بلاک چین یا ہیش چین ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی، جو لین دین کا ریکارڈ جڑے ہوئے بلاکس کی صورت میں اس طرح محفوظ کرتی ہے جسے بعد میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
مزید بتایا گیا کہ مائنرز اس ڈیجیٹل نظام کا اہم حصہ ہیں، جو کمپیوٹیشنل کام انجام دے کر نئے بلاکس کو چین سے جوڑتے ہیں، اور بدلے میں انہیں کرپٹو کرنسی سے انعام دیا جاتا ہے۔
اس عمل میں کمیابی یعنی اسکارسٹی کا تصور بھی بنیادی کردار ادا کرتا ہے، جس کی بہترین مثال بٹ کوائن ہے جس کی کل سپلائی 21 ملین کوائنز تک محدود ہے، جو اس کی طویل مدتی قدر کو بڑھاتی ہے۔
اس بات پر زور دیا گیا کہ کرپٹو کرنسی اب صرف ادائیگیوں کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ یہ ہزاروں اقسام کے ڈیجیٹل ایسٹس میں تبدیل ہو چکی ہے۔
کچھ کوائنز موجودہ پروٹوکولز کو بہتر بنانے کے لیے ہیں، کچھ ان گیم ٹوکنز کے طور پر استعمال ہوتے ہیں جبکہ کچھ حقیقی اثاثوں جیسے جائیداد کو ٹوکنائز کرنے کے لیے بنائے جا رہے ہیں۔ ان نئے استعمالات نے کرپٹو اسپیس کو مزید وسیع کر دیا ہے۔
اسی پس منظر میں ایکسنیس کے فنانشل مارکیٹس اسٹریٹیجسٹ لی ژنگ گان نے بھی عالمی منڈی کے بارے میں رائے دی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ مارکیٹ اس وقت ایک کولنگ پیریڈ سے گزر رہی ہے، مگر اس کی موجودہ رفتار چند سال پہلے تک سائنس فکشن محسوس ہوتی۔
ان کے مطابق مارکیٹ میں وقتاً فوقتاً ہونے والی کریکشن ضروری ہے تاکہ اثاثوں کی حقیقی قدر سامنے آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کرپٹو مارکیٹ واقعی پختہ ہو رہی ہے اور روایتی مالیاتی مارکیٹس کی طرح برتاؤ کر رہی ہے تو اس کا تجزیہ اور پیش گوئی کرنا مستقبل میں آسان ہو جائے گا۔
دنیا بھر میں تقریباً 50 بڑے کرپٹو ایکسچینج فعال ہیں، جن میں چند منتخب پلیٹ فارمز زیادہ تر تجارتی حجم سنبھالتے ہیں۔
ہائی فریکوئنسی ٹریڈرز، اسٹیٹسٹیکل آربی ٹریج فنڈز اور پروفیشنل مارکیٹ میکرز انتہائی جدید ٹریڈنگ حکمتِ عملیاں استعمال کرتے ہیں جن سے معمولی قیمتوں کے فرق سے بھی منافع کمایا جاتا ہے۔ یہ سرگرمیاں اب اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ ان کے روزانہ کے لین دین کی مالیت سینکڑوں ارب ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔
پاکستان میں 2018 سے کرپٹو پر پابندی موجود ہے، مگر اس کے باوجود پاکستانیوں نے گزشتہ دس برسوں میں 20 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کر رکھی ہے جبکہ غیر ریگولیٹڈ چینلز کے ذریعے صرف گزشتہ سال تقریباً 600 ارب روپے کے نقصانات کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
غیر منظم مارکیٹ کے باعث پاکستانی سرمایہ کار فراڈ، ہیکنگ اور قیمتوں میں تیزی سے اتار چڑھاؤ جیسے شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
ماہرین نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں مکمل پابندی کوئی مؤثر حل نہیں، کیونکہ عملی طور پر اس پر عمل درآمد نہ ممکن رہا ہے اور سرمایہ کاری مسلسل جاری ہے۔
اس کے بجائے پاکستان کو کرپٹو کو قانونی دائرے میں لانے، مقامی ایکسچینجز کو لائسنس دینے، ٹریڈ ہونے والے کوائنز کی تعداد محدود کرنے اور ریگولیٹڈ چینلز کے ذریعے سرمائے کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ اس طرح نہ صرف سرمایہ کاروں کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ قومی خزانے کو ٹیکس بھی ملے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








