معصوم بچوں کا بدترین استحصال! شیطانی عمل پر مشتمل ہزاروں ویڈیوز بر آمد، 4 گرفتار

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پولیس نے ایک آپریشن کے دوران مبینہ طور پر بین الاقوامی شیطانی رسومات پر مبنی بچوں کے استحصال کے نیٹ ورک کا پردہ چاک کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ یہ کارروائی نیو ساؤتھ ویلز پولیس کی جانب سے اسٹریئک فورس کانسٹینٹائن کے تحت کی گئی۔

پولیس کے مطابق یہ گروہ ایک غیر ملکی ویب سائٹ کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال، اذیت اور شیطانی رسومات پر مبنی مواد رکھنے، پھیلانے اور تیار کرنے میں ملوث تھا۔

پولیس نے سڈنی کے مختلف علاقوں بشمول واٹرلو اور ملالبار میں چھ چھاپے مارے اور اس دوران 26، 39، 42 اور 46 سالہ چار مردوں کو حراست میں لیا گیا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by CNN (@cnn)

26 سالہ ملزم لینڈن جرمنوٹا ملز کو واٹرلو سے گرفتار کیا گیا جسے پولیس اس گروہ کا مرکزی کردار قرار دیتی ہے۔ اس پر بچوں کے استحصالی مواد کو پھیلانے، رکھنے اور بیسٹیالیٹی (حیوانیت پر مبنی جرم) سے متعلق مواد رکھنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جرمنوٹا ملز ایک آزاد آن لائن نیوز پلیٹ فارم کا بانی بھی ہے جو دعویٰ کرتا تھا کہ وہ اداروں میں ہونے والے استحصال کو بے نقاب کرتا ہے۔

ہزاروں خوفناک ویڈیوز ضبط

پولیس نے چھاپوں کے دوران متعدد الیکٹرانک ڈیوائسز برآمد کی ہیں جن میں بچوں پر تشدد، زیادتی اور شیطانی رسومات پر مبنی ہزاروں ویڈیوز اور مواد موجود تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کچھ ویڈیوز میں پانچ سال کی عمر کے بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

سیکس کرائمز اسکواڈ کی کمانڈر جین ڈوہرٹی کے مطابق پولیس نے فوری کارروائی اس لیے کی کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ مزید بچے خطرے میں ہوسکتے ہیں۔ ملزمان کو جیل منتقل کردیا گیا ہے اور مقدمہ جنوری 2026 میں دوبارہ سنا جائے گا

عدالت نے چاروں ملزمان کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے اور وہ کم از کم جنوری 2026 میں ہونے والی اگلی سماعت تک حراست میں رہیں گے۔

پولیس عالمی اداروں کے ساتھ مل کر اس مواد کے اصل ذرائع تک پہنچنے اور ان بچوں کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو ان ویڈیوز میں موجود ہیں۔ ابھی تک کسی متاثرہ بچے کی شناخت نہیں ہو سکی۔

Related Posts