سندھ کابینہ نے ورلڈ بینک کے تعاون سے چلنے والے 28 ارب روپے کے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ (SSEP) کا آڈٹ شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام بڑے پیمانے پر مبینہ مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے۔
حکومت کا ہدف تھا کہ 2 لاکھ 50 ہزار گھروں کو سولر کٹس فراہم کی جائیں، جن میں سولر پینلز، بیٹریاں، پنکھے، ایل ای ڈی لائٹس اور موبائل چارجر شامل ہوں۔ تاہم درآمدی ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ یہ اشیاء معاہدوں میں درج قیمتوں سے کہیں کم لاگت پر دستیاب تھیں۔
وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے حکام کو ہدایت کی کہ غلط استعمال شدہ فنڈز کی وصولی کی جائے اور اس میں ملوث ٹھیکیداروں اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید یہ کہ بریفنگز میں بتایا گیا کہ بجٹ کی حد سے تجاوز کیا گیا، جبکہ بنیادی ترقیاتی اہداف پورے نہیں ہو سکے۔ سولر پارکس، روف ٹاپ سسٹمز اور گھروں میں سولر کٹس کی تقسیم مطلوبہ حد تک نہیں ہو سکی۔
حکام نے یہ بھی نشاندہی کی کہ معاہدوں میں غیر ضروری تبدیلیاں کی گئیں، نامکمل کام کے باوجود ادائیگیاں ہوئیں اور مرکزی ٹھیکیدار کی جانب سے درآمدی دستاویزات میں جھوٹے بیانات دیے گئے، جس سے بڑے مالی نقصانات ہوئے۔
مزید برآں گھروں میں تقسیم کا کام سنبھالنے والی این جی اوز کو کھلی بولی کے بغیر ٹھیکے دیے گئے اور آلات کی خریداری میں بھی مناسب دستاویزات موجود نہیں تھیں، جس سے شفافیت کے مسائل مزید بڑھے۔
آخر میں وزیراعلیٰ نے سخت مالی نظم و ضبط پر زور دیتے ہوئے عوامی وسائل کے تحفظ اور شفافیت یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کا حکم دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








